ایران کے لیے 60 دن کی ڈیڈ لائن کیا تھی، صدر ٹرمپ کس طرف اشارہ کر رہے ہیں؟
ٹرمپ کا ایران کے سپریم لیڈر کو خط
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو رواں سال کے آغاز میں ایک خط کے ذریعے 60 دن کی مہلت دی تھی تاکہ جوہری معاہدے پر مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔ یہ ڈیڈ لائن 12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے شروع ہوئی، اور جمعرات کو 60 دن مکمل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے 26ویں ترمیم کے فیصلے تک فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت موخر کرنے کی درخواست خارج کردی
ٹرمپ کا الٹی میٹم
صدر ٹرمپ نے جمعے کی صبح سی این این کی اینکر ڈانا باش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "ایران کو میری بات سننی چاہیے تھی، میں نے انہیں خبردار کیا تھا، شاید آپ کو معلوم نہ ہو، لیکن میں نے انہیں 60 دن کا الٹی میٹم دیا تھا، اور آج دن نمبر 61 ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: آج کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی، اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے، بیرسٹر گوہر
فاکس نیوز کے انٹرویو میں ذکر
صدر ٹرمپ نے اس خط کا پہلی بار تذکرہ رواں سال ایک فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کیا تھا، جہاں انہوں نے کہا "میں نے ایران کو خط میں لکھا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ مذاکرات کریں گے، کیونکہ اگر ہمیں فوجی کارروائی کرنی پڑی تو یہ ایران کے لیے تباہ کن ہوگا۔"
مذاکرات کا مستقبل
امریکی حکام اور مذاکرات میں شامل افراد اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ ڈیڈ لائن کے قریب آتے ہی دباؤ بڑھ رہا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات 60 دن کی مدت کے بعد بھی جاری رہیں گے۔ اب جبکہ ڈیڈ لائن گزر چکی ہے، ان مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے، اگرچہ امریکی حکام اب بھی انہیں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔








