پی ٹی آئی اراکین اس بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، یہ تباہی کا سبب بنے گا :سینیٹر علی ظفر
بجٹ کی منظور ی کی مخالفت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین اس بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بجٹ منظور ہوا تو یہ پاکستان کی تباہی کا سبب بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل واوڈا کا جنرل فیض حمید سے متعلق تہلکہ خیز دعویٰ
پاکستان کا دفاعی موقف
جنگ کے مطابق اسلام آباد میں سینیٹ اجلاس کے موقع پر ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے خلاف جنگ جیت چکا ہے، اور اب اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کی ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے ایران میں اہم شخصیات کو شہید کیا اور ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا، جس کو انہوں نے ہمارے لیے ایک وارننگ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1. 9 مئی کی رات امریکی نائب صدر نے بھارتی وزیر اعظم کو پاکستان کی جانب سے بڑے حملے کے حوالے سے خبردار کیا تھا، بھارتی وزیر خارجہ
خطرات اور اتحاد کی ضرورت
انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے جدید جاسوسی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کا استعمال کیا جو پاکستان کے لیے خطرہ کم نہیں کر رہے۔ قانونی اور سفارتی جنگ جیتنے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: اٹلی کے کپتان انجری کے باعث سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ سے باہر
معاشی مسائل اور نئی تجاویز
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ سیاست کو جمہوریت کی طرح چلنے دیں۔ انھوں نے اپوزیشن کو دشمن نہ سمجھنے کی بات کی اور کہا کہ پی ٹی آئی پر ظلم بند کرکے معیشت پر دھیان دینا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الہندوستان کا ایک دفعہ پھر عام بلوچوں پر حملہ، شہر میں کیسے داخل ہوئے؟ جانیے
ایران اور عالمی منظر نامہ
انھوں نے زور دیا کہ ایران کے خلاف جنگ کو پاکستان کے خلاف جنگ سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پچاس فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے ہے جبکہ بجٹ میں 42 فیصد نئے ٹیکس لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کردیا
پیٹرول کی قیمت اور ٹیکس کی خطرات
سینیٹر علی ظفر نے تنقید کی کہ اسرائیل-ایران جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے، اور حکومت ٹیکس بڑھا کر کہتی ہے کہ جی ڈی پی بڑھے گی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس لگا کر گروتھ نہیں ہوسکتی۔
ایف بی آر کا کردار
انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر نے بار بار کہہ رکھا ہے کہ اسے پولیس کا اختیار اور گرفتار کرنے کا اختیار دیا جائے۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی بجٹ میں ایف بی آر کو پولیس کا اختیار دیا گیا ہے، جو کہ ایک خوف و ہراس پیدا کرنے والا بجٹ ہے۔ فائنانس بل کے تحت ایف بی آر کو پولیس فورس بنا دیا گیا ہے۔








