پاکستان سے کشیدگی کے بعد بھارت کا ڈرونز کے لیے 23 کروڑ ڈالر کا نیا ترغیبی پروگرام
بھارت کا نیا ڈرون منصوبہ
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے پاکستان کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی دوڑ کے پیشِ نظر ڈرونز اور ان کے پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کے لیے 23 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کا ترغیبی منصوبہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر! پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی جرات و جذبہ دیدنی، میزائل فائر کرنے کی ویڈیو سامنے آگئی
مقامی ڈرون کی تیاری کا مقصد
ڈان نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ تین ذرائع کے مطابق بھارت مقامی اور عسکری سطح پر ڈرونز کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے 23 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا ایک ترغیبی پروگرام شروع کرنے جا رہا ہے، تاکہ درآمد شدہ پرزہ جات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ یہ اقدام پاکستان کے ایسے ہی پروگرام کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے جو چین اور ترکیہ کی مدد سے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈا پور کا حیران کن انکشاف: جب میں کے پی ہاؤس سے باہر آیا تو نہ موبائل تھا نہ جیب میں ایک روپیہ
فوجی کشیدگی کے اثرات
بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بھارت نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات کو نئی دہلی نے پاکستان پر فضائی حملے کیے جن کے نتیجے میں عام شہری ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان میزائلوں کا تبادلہ کئی دنوں تک جاری رہا، بالآخر امریکی مداخلت کے بعد کشیدگی کم ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے روس کو جی 8 سے باہر نکالنے کو غلطی قرار دیدیا
ترغیبی پروگرام کی تفصیلات
دو سرکاری اور ایک صنعتی ذرائع کے مطابق، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، نئی دہلی تین سالہ 23 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا یہ پروگرام شروع کرے گا جو ڈرونز، ان کے پرزہ جات، سافٹ ویئر، کاؤنٹر ڈرون سسٹمز اور متعلقہ خدمات کی تیاری پر مشتمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ
مالی مدد اور مستقبل کی منصوبہ بندی
یہ تفصیلات اس سے قبل کبھی منظرِ عام پر نہیں آئیں، منصوبے پر اخراجات 2021 میں شروع کیے گئے ایک ارب 20 کروڑ بھارتی روپے کی پروڈکشن لنکڈ سکیم سے کہیں زیادہ ہیں۔ بھارت کی وزارت سول ایوی ایشن، جو اس پروگرام کی قیادت کر رہی ہے، نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 میں 2196 بڑے سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات مکمل، این سی سی آئی اے کی سالانہ رپورٹ جاری
بھارتی ڈرون صنعت کی ترقی
بھارت کا ہدف یہ ہے کہ مالی سال 2028 کے اختتام تک اہم ڈرون پرزہ جات کا کم از کم 40 فیصد ملک میں تیار کیا جائے۔ بھارتی سیکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ نے گزشتہ ہفتے کہا کہ پاک-بھارت تنازع کے دوران دونوں طرف سے ڈرونز کا خاصا استعمال ہوا، جس سے یہ سبق ملا کہ اندرونِ ملک تیاری کی کوششوں کو دوگنا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کال سینٹر کی آڑ میں امریکی اور کینیڈین شہریوں سے کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث چار ملزمان گرفتار
حصول سہولیات انڈسٹریز کے لیے
سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومت ان اداروں کو اضافی ترغیبات دے گی جو پرزہ جات ملک کے اندر سے حاصل کریں گے۔ مزید یہ کہ سمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا اس پروگرام کی معاونت کرے گا اور کاروباری اداروں کو ورکنگ کیپیٹل اور تحقیق و ترقی کے لیے سستے قرضے فراہم کرے گا۔
موجودہ صورتحال
اس وقت بھارت میں 600 سے زائد ڈرون ساز اور متعلقہ کمپنیاں سرگرم عمل ہیں، جو کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں۔








