برفیلی ہوا جسم کو چھری کی طرح کاٹ رہی تھی، شکار کی تھرل میں سردی کا احساس ذرا کم ہی تھا، ہلکی ہلکی دھند، رات کا پہلا پہر ہر طرف سناٹا، 2 ہی آوازیں تھیں
مصنف کی معلومات
شہزاد احمد حمید
قسط: 222
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
افسر شکار پر
ذوالفقار باگڑی شکار کے شوقین تھے اور اکثر ویک اینڈ اور بعض دفعہ ویک ڈیز میں بھی ہم ”وائلڈ بور“(سور کے شکار) پر نکل جاتے۔ ان کا ایک گن مین بھی ساتھ ہوتا کہ کچھ پرانی دشمنیوں کا بھی معاملہ تھا۔ بھمبر نالے کے کنارے بڑے بڑے بیلے تھے جن میں فصلوں کا دشمن یہ جانور کافی تعداد میں تھا۔ اکثر ٹولیوں کی شکل میں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: اس ایک وجہ سے بل گیٹس دیوالیہ ہوسکتے ہیں، ایلون مسک نے بڑا دعویٰ کردیا
پہلا تجربہ
سردیوں کی ایک شدید ٹھنڈی شام میں بیڈ منٹن کھیل کر گھر آیا تو تھوڑی دیر میں باگڑی بھی آ گیا اور کہا”شکار پر چلتے ہیں۔“ اس نے مجھے کپڑے تبدیل کرنے کا وقت نہ دیا، بس ایک جیکٹ اٹھائی اور ان کے ساتھ ہو لیا۔ بچے میرے لاہور گئے ہوئے تھے۔ ہم بھگوال گاؤں کے رہنے والے عبداللہ کی جیپ میں سوار ہوئے اور بھمبر نالے کے گھنے بیلوں میں گھس گئے۔ وائلڈ بور کے شکار کا میرا یہ پہلا تجربہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں
وائلڈ بور کی خصوصیات
سن رکھا تھا کہ یہ جانور نہ تو تیز دوڑ سکتا ہے اور نہ ہی تیزی سے کسی بھی جانب مڑ سکتا ہے۔ سنی سنائی یہ باتیں اور اندازے سب غلط ہونے والے تھے۔ سردی کی گھپ اندھیری رات میں چاند نے اپنی روشنی دور تک پھیلا رکھی تھی۔ ہلکی ہلکی دھند، رات کا پہلا پہر ہر طرف سناٹا تھا۔ بھونکنے والا جانور بھی کہیں دبک گئے تھے۔ دو ہی آوازیں تھیں، جیپ کے انجن کا شور یا جیپ سے ٹکراتی ٹھنڈی ہوا کی شائیں شائیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار اور بھارتی فوج ’’آپریشن سندور‘‘ میں ناکامی کے بعد اپنے فوجیوں کی ہلاکت چھپانے میں مصروف، متضاد کہانیاں سامنے آنے لگیں
شکار کی تیاری
میں نے اس پہلے شاید ایک یا دو بار ابا جی کی بارہ بور گن چلائی تھی۔ ہمارے گائیڈ دبلا پتلا مسکین سا شخص جیپ کے پچھلے حصہ میں کھڑا سرچ لائیٹ چاروں طرف گھومتا شکار کی تلاش میں تھا اور دروازوں کے شیشوں سے باہر نکلی بندوقوں کی نالیاں نظر آنے والے شکار کو نشانہ بنانے کے لئے تیار تھیں۔ باگڑی کے ہاتھ میں بارہ بور رپیٹر گن تھی جبکہ میرے اناڑی ہاتھوں میں باگڑی کی دو نالی بندوق۔ برفیلی ہوا جسم کو چھری کی طرح کاٹ رہی تھی۔ شکار کی تھرل میں سردی کا احساس ذرا کم ہی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں چاند رات کو بینک ڈکیتی، ڈاکو 400 تولہ سونا اور 13 لاکھ ستر ہزار روپے نقدی لے اڑے
پہلے شکار کا منظر
ہمیں بیلے میں گھسے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ ہمیں وائلڈ بور کا ایک اجڑ(گروپ) نظر آیا۔ جیپ اسی طرف دوڑی، سرچ لائیٹ میں پہلی بار میں اس جانور کو اپنے سامنے دوڑتے دیکھ رہا تھا۔ جیپ 40 کلو میٹر کی رفتار سے دوڑ رہی تھی تو کم و بیش اتنی ہی رفتار سے ہمارا شکار بھی دوڑ رہا تھا۔ اچانک باگڑی کی بندوق سے 2 کارتوس فائر ہوئے اور ایک وائلڈ بور ہم سے کچھ دور دھڑم سے زمین پر گرا۔ 2 اور کارتوسوں نے دوسرے کا کام بھی تمام کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے اعتراضات مسترد، امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی
جانور کا شکار
اس جانور کو مارنے کے لئے ایل جی کا کارتوس استعمال ہوتا ہے، اگر یہ اس کے سر کے ارد گرد لگے تو یہ بھاری بھرکم چربی سے بھرا جانور اٹھ نہیں سکتا اور اگر ٹانگ یا پیٹ وغیرہ پر لگے تو یہ کافی دور تک بھاگ سکتا ہے۔ اسی کارتوس سے شیر کا شکار بھی کیا جاتا ہے۔ جب تک جیپ ان کے قریب پہنچی یہ اپنی آخری سانس لے چکے تھے۔ عبداللہ کا جوش دیدنی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام
سرکاری امداد
جس پرجوش انداز سے اس نے نعرہ لگایا اس کی گونج سرد سناٹے دار رات میں دور تک سنی گئی ہو گی۔ باگڑی کے گن مین نے ان دونوں کی دم کاٹ لی تھیں۔ فصلوں کو بہت نقصان پہنچنے والے اس جانور کے خاتمے کے لئے حکومت فی دم اس دور میں 75 روپے دیا کرتی تھی۔ اس سرکاری فنڈ کی چیک بک بطور پراجیکٹ منیجر میرے پاس ہوتی تھی۔ مارے گئے वائلڈ بورز کی دم نوٹ کے ساتھ لگا کر اے سی سے ان کی منظوری لیتا اور ملنے والی رقم سے اٹلی کے بنے فلوچی (fluchi) کے ایل جی کارتوس خریدتے جو اس زمانے میں تیس / پچیس (30 / 25) روپے کا ایک تھا جبکہ پاکستانی شاہین کا ایل جی کارتوس 15 روپے کا۔ کھاریاں میں یہ کارتوس دستیاب تھے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








