اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دھرنا دینے والوں نے قلات بس حملے میں شہید ہونے والوں کیلئے ایک لفظ نہیں کہا: جان اچکزئی

تنقید کا نشانہ: جان اچکزئی کی بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بلوچستان یکجہتی کمیٹی کے اسلام آباد پریس کلب کے باہر جاری دھرنے کے مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آج ماہ رنگ بلوچ کیلئے آوز اٹھا رہے ہیں لیکن قلات میں کراچی جانے والی بس پر حملے میں شہید ہونے والے معصوم پاکستانیوں کیلئے ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا اور نہ ہی مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کورونا سے 4 اموات کی خبروں پر محکمہ صحت سندھ کی وضاحت آ گئی
جان اچکزئی کا بیان
تفصیلات کے مطابق جان اچکزئی کا ایکس پر جاری پیغام میں کہنا تھا: "اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دھرنا دینے والے آج ماہ رنگ بلوچ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، مگر قلات میں کراچی جانے والی بس پر حملے میں شہید ہونے والے معصوم پاکستانیوں کے لیے کسی نے ایک لفظ نہیں کہا، کیوں؟ کیا وہ انسان نہیں تھے؟ کیا بی وائی سی اور ماہ رنگ بلوچ کے حامی صرف اُن مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں جن کا بیانیہ ریاست دشمن ہو؟ وہی ماہ رنگ جس کے شہر سے تیس منٹ کے فاصلے پر یہ دہشت گردی ہوئی، اُس کی تنظیم نے ایک ٹویٹ تک نہ کی، کیونکہ قاتل شاید اُن کے نظریاتی بھائی تھے۔ یہ دہرا معیار اور خاموشی صرف اس لیے ہے کہ ان کے لیے باہر کے ملکوں سے ایوارڈ نہیں ملتے، ویزے نہیں آتے، فنڈنگ نہیں ہوتی۔ ہم پوچھتے ہیں، کیا انسانی حقوق صرف اُن کے لیے ہیں جو ریاست کو گالی دیں، اور کیا ان شہیدوں کا خون اتنا سستا تھا کہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بیٹھے لوگ بھی ان کا ذکر نہ کر سکیں؟"
یہ بھی پڑھیں: انووشکا شرما اور ویرات کوہلی نے بھارت کیوں چھوڑا؟ وجہ سامنے آگئی
حملے کے متاثرین
یاد رہے کہ قلات میں بس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تین افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے، جاں بحق ہونے والوں میں صابری قوال گروپ کے لوگ شامل ہیں جو کہ ایونٹ کیلئے کوئٹہ آ رہے تھے۔
جان اچکزئی کا ٹویٹ
اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دھرنا دینے والے آج ماہ رنگ بلوچ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، مگر قلات میں کراچی جانے والی بس پر حملے میں شہید ہونے والے معصوم پاکستانیوں کے لیے کسی نے ایک لفظ نہیں کہا، کیوں؟ کیا وہ انسان نہیں تھے؟ کیا بی وائی سی اور ماہ رنگ بلوچ کے حامی صرف اُن مظلوموں…
— Jan Achakzai / جان اچکزئی (@Jan_Achakzai) July 17, 2025