پی ٹی آئی کا احتجاج لاہور: مینار پاکستان جانے والے راستے بند، سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات
لاہور میں پی ٹی آئی کا احتجاج
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک کے بعد آج لاہور کے مینار پاکستان پر احتجاجی مظاہرہ ہے۔ صوبائی حکومت نے احتجاج ناکام بنانے کے لیے اپنی تمام تیاریاں کرلی ہیں۔ ان تیاریوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں، شہر کے داخلی اور باہر کے راستوں کی بندش، دفعہ 144 کا نفاذ اور بھاری نفری کی تعیناتی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
پولیس اور رینجرز کی تعیناتی
آج نیوز کے مطابق پولیس کے ساتھ رینجرز کے دستے بھی فرائض انجام دیں گے جبکہ پولیس ڈھائی سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے چکی ہے جبکہ انتظامیہ نے پہلے ہی مینار پاکستان کے اطراف بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد میں کارروائیاں
اسلام آباد میں گزشتہ روز کے پی ٹی آئی احتجاج مظاہرین کے خلاف ریاستی اقدامات بظاہر کامیاب رہے۔ علی امین گنڈا پور کا قافلہ ابتدائی چند ایک رکاوٹ ہٹا کر آگے بڑھا لیکن حسن ابدال کٹی پہاڑی کے پاس بدترین شیلنگ کے باعث وہ آگے نہیں بڑھ سکا، جبکہ ڈی چوک سے چائنہ چوک تک شیلنگ اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے جڑواں شہروں سے تقریباً 1600 کارکنوں کو گرفتار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکی حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات مکمل تباہ ہوگئیں؟
گرفتاریوں کی تفصیلات
گزشتہ روز لاہور میں پولیس نے احتجاج کے حوالے سے جن پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے انہیں شرپسند عناصر ڈیکلیئر کردیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کے 1590 کارکنوں کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے جنگ میں بھارت کے گرنے والے طیاروں کے پائلٹ کہاں گئے؟ انکشاف سامنے آگیا
دفعہ 144 کا نفاذ
پنجاب کے 4 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرکے رینجرز طلب کی جا چکی ہے۔ ادھر لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ لاہور سے اسلام آباد موٹروے جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے، بابو صابو انٹرچینج اور ٹھوکر نیاز بیگ انٹری پوائنٹ پر کنٹینرز لگنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو اپنی عالمی حیثیت کی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ٹرمپ اور مودی کے تعلقات کیسے بگڑے ۔۔۔؟ نیو یارک ٹائمز نے وجوہات بتا دیں
مینار پاکستان پر جلسے کی تیاری
آج مینار پاکستان پر بانی تحریک انصاف کی سالگرہ کا جلسہ منعقد کرنے کے اعلان پر بھی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے آزادی فلائی اوور پر کیمپ لگا دیا اور داتا دربار کے قریب روڈ بلاک کے لیے کنٹینر بھی پہنچا دیے ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تاحال این او سی بھی جاری نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران کے ساتھ ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کرلیا ہے، نتین یاہو
ٹریفک کی مشکلات
بابوصابو انٹرچینج اور ٹھوکر نیاز بیگ پر واٹر کینن، قیدیوں کی وین اور پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہے۔ موٹروے بند ہونے کے بعد جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان کے وانا رستم بازار میں بارودی مواد کے دھماکے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 18 شہری زخمی
سیکورٹی خطرات کے پیش نظر کارروائیاں
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور ممکنہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر پنجاب کے 4 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ لاہور، راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز بھی طلب کر لی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے 4 شہروں لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ملزمان کو حوالات میں رکھاجائے، شخصی ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، آئی جی پنجاب
رینجرز کی تعیناتی
حکومت پنجاب نے لاہور، راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز بھی طلب کر لی ہے۔ راولپنڈی اور اٹک میں 4 اور 5 اکتوبر کے لیے رینجرز کی 6 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔ اٹک میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کی 10 پلاٹون بھی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اس کے علاوہ لاہور میں 5 اکتوبر کے لیے رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر دوران میچ انتقال کر گئے
نوٹیفکیشن کی تفصیلات
نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پنجاب نے راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں 3 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کی ہے، جس کا اطلاق جمعہ 4 اکتوبر سے اتوار 6 اکتوبر تک ہوگا۔ لاہور میں جمعرات 3 اکتوبر سے منگل 8 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ ہے۔ یہ فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو جان لینا چاہیے کوئی بھی دیوار آزادی کی خواہش روک نہیں سکتی: وزیر اعلیٰ مریم نواز
عدالتی چیلنج
حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ شہری ناجی اللہ نے متفرق درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ دفعہ 144 نافذ کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 3 سے 8 اکتوبر تک نافذ کی گئی دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔
خلاصہ
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت پنجاب نے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ امن و امان کے قیام اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔








