چین نے براہماپترا دریا پر ڈیم بنانا شروع کر دیا، بھارت میں کھلبلی مچ گئی
چین کا ڈیم منصوبہ
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین نے تبت میں دریائے برہماپترا پر 167.8 ارب امریکی ڈالر مالیت کے ڈیم کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ ڈیم بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کی سرحد کے قریب بنایا جا رہا ہے، جس نے بھارت کی رات کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 70ہزار700 روپے ہو گئی
بھارت کا ردعمل
بی بی سی کے مطابق، کام کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی بھارت کی ریاست اروناچل پردیش کے وزیر اعلی پیما کھانڈو نے اسے ایک 'ٹکنگ بم' سے تعبیر کیا جو انڈیا کے لیے کبھی بھی تباہی لا سکتا ہے۔ ادھر انڈیا میں سوشل میڈیا پر بھی صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا چین انڈیا کو اسی کی زبان میں جواب دے رہا ہے جیسے انڈیا 'سندھ طاس معاہدہ' کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو پاکستان کا سماجی خدمت میں بڑا قدم، “Capture the Future” مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا
چین کے سرکاری اعلان
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق، چینی وزیر اعظم لی کیانگ نے دریائے برہماپترا کے زیریں علاقے، جسے مقامی طور پر یارلنگ زانگبو کہا جاتا ہے، کے شہر نِنگچی میں ایک سنگ بنیاد کی تقریب کے دوران اس منصوبے کا آغاز کرنے کا اعلان کیا۔ اس ہائیڈرو پاور منصوبے کو دنیا کا سب سے بڑا بنیادی ڈھانچہ منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر دریائے برہماپترا کے نچلی سطح کے ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر بیلاروس پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ
منصوبے کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ پانچ سلسلہ وار ہائیڈرو پاور سٹیشنز پر مشتمل ہوگا، جس پر مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 1.2 ٹریلین یوآن (تقریباً 167.8 ارب امریکی ڈالر) کی جانی ہے۔ 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس ہائیڈرو پاور سٹیشن سے ہر سال 300 ارب کلو واٹ گھنٹے سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، جو کہ 30 کروڑ سے زائد افراد کی سالانہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دیدی، ایران کا مؤقف بھی آ گیا
چین کے مقاصد
یہ منصوبہ بنیادی طور پر چین کے بیرونی علاقوں کو بجلی فراہم کرے گا جبکہ تبت میں مقامی طلب کو بھی پورا کرے گا، جسے چین سرکاری طور پر شیزانگ کہتا ہے۔
بھارتی میڈیا کی تشویش
چین کے منصوبے سے بھارت میں کھلبلی مچ چکی ہے، جس کا مظاہرہ ان کے میڈیا چینلز پر کیئے جانے والے واویلے سے کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر رضوان رضی نے بھارتی ٹی وی 'این ڈی ٹی وی' کا کلپ شیئر کیا اور تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ “چین نے براہماپترا پر $167B کا دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنانا شروع کر دیا، جبکہ بھارت اسے اشتعال انگیزی کہہ رہا ہے، مگر جب بھارت خود انڈس واٹر ٹریٹی کو نظرانداز کرے گا تو پھر دوسروں سے اصول پسندی کی توقع کیوں؟ اور چین تو یہ ڈیم بھی ریکارڈ مدت میں بنا دے گا۔”








