تحریک انصاف شدید مالی بحران کا شکار، سیکریٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد کمی
پاکستان تحریک انصاف میں مالی بحران
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف نے مالی بحران کی وجہ سے مرکزی سیکریٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی کردی جو کہ گزشتہ 2 ماہ سے جاری ہے۔ ایکسپریس نیوز کو ملنے والی معلومات کے مطابق تنخواہوں میں اچانک 50 فیصد کٹوتی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے سیکریٹریٹ کے درجنوں ملازمین اور مخلص کارکنان مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چور نے واردات کرنے کے لیے 100 میٹر سے زائد سرنگ کھود ڈالی
قیادت کی وعدہ خلافی
جماعت کی قیادت سیکریٹریٹ میں کام کرنے والوں کے ساتھ مسلسل وعدہ خلافی کر رہی ہے، اکتوبر 2024 سے اب تک سیکریٹریٹ ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی جاری ہے۔ کئی ملازمین نے پارٹی کے لیے اپنی خدمات کے دوران گرفتاری اور تشدد برداشت کیا، جبکہ ایسے ملازمین کو بھی گھر بیٹھا دیا گیا ہے جن کے خلاف ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مئی 2023 میں ن لیگ کے دور حکومت میں ہی مہنگائی کی شرح 38 فیصد ہوئی، جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا، حافظ فرحت عباس
پی ٹی آئی کے رہنما کی رائے
ایک پارٹی رہنما نے کہا کہ بحران ضرور ہے، لیکن چند لاکھ کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونا پارٹی کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ ملازمین کے مطابق چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، اور شیخ وقاص کو بارہا آگاہ کیا گیا لیکن واجبات ادا نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر پیوٹن کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کی تقرری پر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد
سیاسی مشکلات اور رہنما کا استعفی
میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ سبغت اللہ ورک سیاسی مشکلات کی وجہ سے روپوش ہو گئے تھے، جس کے بعد پارٹی نے مشکل وقت میں انہیں بھی نظر انداز کر دیا۔ اب سبغت اللہ ورک نے مالی اور دیگر مشکلات کے باعث پارٹی قیادت کو اپنا استعفی ارسال کر دیا ہے۔
فنڈز کی کمی
بانی چئیرمین کی ہدایت کے باوجود پارٹی کے درجنوں ایم این ایز اور ایم پی ایز نے فنڈز جمع نہیں کروائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے واجبات کی ادائیگی کی یقین دہانی کروائی تھی مگر تاحال اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔








