نظریہ زور پکڑ رہا ہے کہ صدر آصف زرداری اور شہباز شریف اعزاز نہیں، بلکہ بوجھ ہیں، فی الحال اس نظریے کی جیت ہوئی جو سولین سیٹ اپ کو ریاست کے لیے بہترین سمجھتے ہیں: سہیل وڑائچ
سہیل وڑائچ کا انکشاف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں دبے لفظوں میں بڑا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک نظریہ زور پکڑ رہا ہے کہ صدر آصف زرداری اور شہباز حکومت ریاست کے لیے اعزاز نہیں بلکہ بوجھ ہیں۔ کئی طاقتور لوگ سویلین حکومت کے خلاف نظریہ رکھتے ہیں، مگر ان کے پاس فیصلہ کن پوزیشن نہیں ہے۔ فیصلہ کن طاقتور بھی سویلین حکومت سے زیادہ خوش نہیں ہیں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ سویلین سیٹ اپ کو چلانا ریاست کے لیے بہترین راستہ ہے۔ اس نظریے کی عارضی جیت ہو چکی ہے جو نظام کو چلانے کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت سے 625 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں خارج
نظریات کی جنگ
سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں مزید کہا کہ تضادستان میں نظریات کی یہ جنگ تاریخ میں جاری رہی ہے، مگر کئی تجربات کے بعد یہ ایک بار پھر تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایک نظریہ یہ کہتا ہے کہ سویلین ادارے، سیاستدان اور بیوروکریسی پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ جبکہ متضاد نظریہ یہ سمجھتا ہے کہ سب مل جُل کر چلائیں گے تو ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے لیے دھچکا قرار دیدیا
شخصی لڑائی کا انداز
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بظاہر نظریات کی لڑائی ہوتی ہے، مگر ہر دور میں یہ نظریاتی لڑائی شخصی لڑائی میں تبدیل ہوتی رہی ہے۔ اس وقت بھی یہ لڑائی کسی نہ کسی شکل میں شخصی ہو جائے گی۔ تضادستان کی اندرونی لڑائی جو آج کے دور کی جنگوں کی ماں کہلائے گی، اس میں یہ نظریہ طاقت پکڑ رہا ہے کہ صدر مملکت آصف زرداری اور شہباز حکومت ریاست کے لیے بوجھ ہیں۔ اس نظریے کے حامیوں کے پاس ان کی غلطیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں کی باقاعدہ چارج شیٹ موجود ہے۔
مستقبل کی امیدیں
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حالانکہ کئی طاقتور لوگ سویلین حکومت کے خلاف نظریہ رکھتے ہیں، ان کو فیصلہ کن پوزیشن حاصل نہیں ہے۔ فیصلہ کن طاقتور بھی سویلین صدر اور کابینہ سے زیادہ خوش نہیں ہیں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ سویلین سیٹ اپ کو چلانا اور اجتماعی فیصلے کرنا ہی ریاست کے لیے بہترین راستہ ہے۔ حالانکہ صدر کو سائیڈ لائن کرنے اور سویلین حکومت پر تنقید کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے، مگر اس وقت عارضی طور پر اس نظریے کی جیت ہوئی ہے جو نظام کو چلانے کا حامی ہے۔








