جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے جج کا خط
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت مساجد کو مسلم کلچرل سینٹر/کمیونٹی سینٹر کی شکل دے، تمام مسلمانوں کو بلا تفریق قرآن و سنت کی برکات سے فیض یاب ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں
خط کی تفصیلات
جیو نیوز کے مطابق خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ موسٹ سینئر جج ہونے کے ناطے ادارے کی ڈیوٹی کیلئے خط لکھ رہا ہوں، متعدد خطوط لکھے، آپ کا نہ تحریری نہ زبانی جواب ملا۔8 ستمبر کو جوڈیشل کانفرنس میں عوامی سطح پر سوالات کے جواب دیں۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں پر کنٹینر گرنے سے 4 افراد کی جان چلی گئی
سوالات کا سلسلہ
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟ سپریم کورٹ رولز کی منظوری فل کورٹ کے بجائے سرکولیشن کے ذریعے کیوں کی گئی؟ اختلافی نوٹ جاری کرنے سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کیلئے انفرادی طور پر مشاورت کیوں کی گئی؟
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی کے وائٹ بال ایونٹس میں اہم ریکارڈ اپنے نام کر لیا
ججو کی چھٹیاں اور دیگر امور
جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں سوال کیا کہ ججز کی چھٹیوں پر جنرل آرڈر کیوں جاری کیا گیا؟ 26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر اوریجنل فل کورٹ کیوں تشکیل نہیں دیا گیا؟
ججز کی خودمختاری
خط کے متن کے مطابق ججز کو خودمختاری کے بجائے آپ انہیں کنٹرولڈ فورس کے طور پر پروان چڑھا رہے ہیں، امید ہے نئے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب میں ان سوالات کا جواب دیا جائے گا۔








