خیبر پختونخوا میں عالمی بینک کے سرکاری منصوبے سے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی خردبرد کا بڑا مالیاتی اسکینڈل بے نقاب
مالیاتی اسکینڈل کی تفصیلات
خیبر پختونخوا میں عالمی بینک کے ایک سرکاری منصوبے سے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی خردبرد کا بڑا مالیاتی اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے۔ یہ اسکینڈل جعل سازی کے جدید طریقوں اور ایک سرکاری بینک کی ممکنہ ملی بھگت کے ذریعے رقم نکالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بوستان کی اسلام آباد میں اہم شخصیت سے ملاقات، ڈالر کے ریٹ پر گفتگو
رقم کی نکالی جانے کی تاریخ
دستاویزات کے مطابق رقوم 3 جولائی 2025 کو سرکاری اکاؤنٹ سے نکالی گئیں، حالانکہ صوبائی محکمہ خزانہ نے 25 جون 2025 کو تمام منصوبوں کے فنڈز منجمد کر دیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے چودھری یاسین کا نام فائنل کر لیا
پروجیکٹ انتظامیہ کے تحفظات
پروجیکٹ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ چیک اتھارٹی لیٹر اور ریفرنس نمبر جعلی تھے۔ بینک نے تصدیق کے بغیر اتنی بڑی رقم جاری کر دی۔ خیبر پختونخوا ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (KP-HCIP) کے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PMU) نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دین اسلام تمام نوع انسانی کے لیے امن و آشتی کا پیغام ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کا اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر پیغام
ایف آئی اے تحقیقات کی درخواست
ایچ سی آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بینک انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ فراڈ کی تحقیقات ایف آئی اے کے ذریعے کرائی جائیں اور چوری شدہ رقم فوری طور پر واپس جمع کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے، مولانا فضل الرحمان کا حکومت کو پیغام
فراڈ کی نوعیت
پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے بینک کو بھیجے گئے خط کے مطابق، منصوبے کے "ریوالونگ فنڈ اسائنمنٹ اکاؤنٹ" سے 3 جولائی کو پشاور کینٹ برانچ کے ذریعے تین چیکس فراڈ کے تحت کلیئر کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک کا نظام چلانے کا نسخہ بتا دیا
جعلی چیکس اور دستاویزات
رقم 1964028 روپے ایک ہی چیک نمبر کی تکرار مزید شکوک پیدا کرتی ہے، جب کہ کل خردبرد کی گئی رقم 10 کروڑ 60 لاکھ 44 ہزار روپے بنتی ہے۔
پی ایم یو نے واضح طور پر کہا ہے کہ چیک اتھارٹی لیٹرز "جعلی" ہیں اور ان کی توثیق نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم ہر سال پاکستان میں نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی کا اضافہ کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال
بینک کی کوتاہیاں
پی ایم یو کے خط میں بینک کی سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر آصف شہزاد نے بتایا کہ پروجیکٹ کے عملے نے یہ فراڈ بے نقاب کیا۔
بینک کی جانب سے کارروائی
بینک کے ریجنل ایگزیکٹو آپریشن توقیراحمد نے بتایا کہ شکایت موصول ہو چکی ہے اور انکوائری جاری ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔








