کیا پاکستان بھارت کا کرکٹ میچ ہوسکتا ہے تو سکھ یاتری پاکستان کیوں نہیں جا سکتے؟ وزیراعلیٰ بھارتی پنجاب پھٹ پڑے
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کی تنقید
چندی گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوانت سنگھ مان نے کہا کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ بی جے پی کی پالیسی پاکستان کے خلاف ہے یا عوام کے خلاف.
یہ بھی پڑھیں: صنفی بنیاد پر تشدد عالمی مسئلہ ہے، خواتین کی سماجی زندگی کو متاثر کر رہا ہے: پارلیمانی سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ
فلم کی ریلیز پر پابندی
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان سے ایک فنکار کو فلم میں کام کرنے کے لیے لیا گیا، جس کی شوٹنگ پہلگام واقعہ سے پہلے ہوئی تھی. کہا گیا کہ اگر یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس فنکار کو ملک کا غدار قرار دیا جائے گا. اس کے بعد پوری ملک میں بی جے پی کی ٹرول آرمی متحرک ہوئی کہ یہ غداری ہے.
یہ بھی پڑھیں: 38ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کا ایوانِ صدر کا دورہ، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے خوش آمدید کہا
مودی کا بیان
بھارتی میڈیا کے مطابق بھگوانت سنگھ مان نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی بھی کہتے ہیں کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے. فلم کو روکا گیا اور جو میچ ہوا، اس کا کیا؟ فلم تو پہلے کی شوٹنگ تھی جسے ریلیز نہیں ہونے دیا گیا مگر میچ تو لائیو تھا.
یہ بھی پڑھیں: نیپال حکومت نے عوامی احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم
سرداروں کی مشکلات
انہوں نے سوال کیا کہ سرداروں کا کیا قصور ہے جنہیں پاکستان عبادت کے لیے جانے نہیں دیا جاتا؟ اگر میچ کھیل سکتے ہیں تو کرتار پور عبادت کے لیے جانے دینے میں کیا حرج ہے؟ کیا ہر چیز آپ کی مرضی سے چلے گی؟
آفت اور امداد
آخر میں، وزیراعلیٰ نے ذکر کیا کہ افغانستان میں آفت آئی تو ایک منٹ میں امداد پہنچی، جبکہ پنجاب میں آفت آئی مگر ابھی تک ایک پیسہ نہیں آیا.








