ٹرمپ کا پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کے دفاع کا اعلان
ٹرمپ کا دفاعی بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر روس کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ کیا گیا تو وہ پولینڈ اور بالٹک ریاستوں (ایسٹونیا، لتھوانیا اور لٹویا) کا دفاع کریں گے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روسی جنگی طیاروں نے ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا فاطمہ ثنا نے بھارتی کھلاڑی کے پاؤں چھوئے تھے؟ تصویر کی حقیقت سامنے آ گئی
روس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی
اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ یورپی یونین کے ان رکن ممالک کا دفاع کریں گے اگر روسی کارروائیاں بڑھتی ہیں؟ تو صدر نے جواب دیا: "ہاں، میں کروں گا۔ بالکل کروں گا۔"
یہ بھی پڑھیں: محمود خان اچکزئی کی تقاریر اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ریکارڈ منگوا لیا
اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس
ایسٹونیا نے روسی طیاروں کی خلاف ورزی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس پیر کو طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا سیاسی رنگ سامنے ہے، سیاسی لیڈروں کی گن کلچر والی گھاتیں ظاہر ہو رہی ہیں، اسے کہتے ہیں ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور
یورپی ردعمل
یورپی یونین اور نیٹو نے اس واقعے کو "خطرناک اشتعال انگیزی" قرار دیا ہے، تاہم ماسکو نے خلاف ورزی سے انکار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 30 دنوں میں لیپ ٹاپ سکیم کے اجراء کی ڈیڈ لائن،کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے ؟ جانیے.
روسی لڑاکا طیاروں کی موجودگی
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعہ کو روس کے تین MiG-31 لڑاکا طیارے خلیج فن لینڈ کے قریب ایسٹونیا کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جس پر اطالوی F-35 طیاروں سمیت سوئیڈن اور فن لینڈ کے جنگی جہازوں نے فوری طور پر فضا میں بلند ہو کر روسی طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکریک سے جیوانی تک اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں، سربراہ پاک بحریہ
ٹرمپ کی بریفنگ
ٹرمپ نے تصدیق کی کہ انہیں ایسٹونیا کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی ہے اور انہوں نے کہا: "ہمیں یہ سب اچھا نہیں لگا۔"
پولینڈ میں ڈرون کی خلاف ورزی
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل 17 روسی ڈرونز پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جسے ٹرمپ نے اُس وقت ممکنہ "غلطی" قرار دیا تھا۔








