قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے بعد کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا
قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے بعد کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت کو بات چیت سے قبل بہنوں کی غلامی سے نکلنا ہوگا: طلال چودھری
اپوزیشن کے احتجاج اور دھرنا
اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں، ایوان میں شدید نعرے بازی کی اور اسپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ اپوزیشن نے اپنی علیحدہ اسمبلی بھی لگا لی۔ بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان نے واک آؤٹ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راولپنڈی میں ڈور سے بچی کے زخمی ہونے کا نوٹس لے لیا
وزیر قانون کا بیان
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں کہا کہ دہشت گردوں کی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت میں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں دل دہلا دینے والا واقعہ، نہر سے نومولود بچے کی لاش برآمد
سپیکر کے ریمارکس اور بل کی منظوری
سپیکر نے بھی ریمارکس دیے کہ دہشت گردوں کے حق میں بات نہیں کرنے دوں گا۔ ایوان نے "آسان کاروبار بل 2025ء" بھی منظور کرلیا، جس میں پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کی ترامیم شامل کی گئیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاؤالدین میں ایچ پی وی ویکسین لگانے پر 15 خواتین نے لیڈی ہیلتھ ورکر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، مقدمہ درج
اہم مسائل پر توجہ دلاؤ نوٹس
مسلم لیگ (ن) کے رکن انجم عقیل خان نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں زمین ایکوائر کرنے کے باوجود رقم کی عدم ادائیگی پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، جس پر وزیر قانون نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بقایا جات بھی جلد ادا کردیئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فنٹاسٹک فور کے مشہور اداکار جولیان میک موہن 56 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
اپوزیشن کی الگ اسمبلی
دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اپوزیشن نے ملکی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار اسمبلی کے اندر اپنی الگ "اسمبلی" لگا لی۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن ثنا اللہ مستی خیل نے تقریر کی جبکہ ایوان میں شور شرابہ جاری رہا۔
آزاد رکن کی شرکت
آزاد رکن ریاض فتیانہ نے بھی دونوں اجلاسوں میں شرکت کی اور پہلے اپوزیشن احتجاج کا حصہ بنے، بعدازاں اپنی نشست پر جاکر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔








