لاہور ہائی کورٹ: ماتحت عدالتوں کے دستخطوں کے موازنہ سے متعلق فیصلے کالعدم قرار
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد کا دستخطوں کی تصدیق سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ آ گیا، ماتحت عدالتوں کے دستخطوں کے موازنے سے متعلق فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے فرانزک سائنس لیبارٹری سے مرحوم کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: قاضی حسین احمد نے کہا غلام حیدر وائیں کو منا لیں تو جمعیت کو ختم کرنے کیلئے تیار ہونگے، ایک دوسرے کی ضد میں اِصرار میری سمجھ سے بالا تر تھا
تفصیلات کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے محمد سلیمان سمیت دیگر کی درخواستوں پر 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے 300 یونٹ ماہانہ تک کے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لگادیے۔
عدالت کے احکامات
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ عدالتوں کو جدید سائنسی اور فرانزک طریقے اپنانے چاہئیں، کسی بھی دستاویز کی اصلیت جانچنے کے لئے فرانزک شواہد انتہائی اہم ہیں، انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ انتہائی اہم ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اخلاق میں وہ سارے کے سارے غریب تھے۔۔۔
فرانزک ٹیکنالوجی کی اہمیت
فیصلے میں کہا گیا کہ دنیا میں کسی دو افراد کے انگوٹھوں کے نشانات ایک جیسے نہیں ہو سکتے، جدید فرانزک ٹیکنالوجی انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مددگار ہے، عدالتوں کو فرانزک ماہرین کی رائے حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قلات میں دہشتگردی کی شدید مذمت، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
ماہرین کی رائے کی ضرورت
جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں لکھا کہ دستخطوں، لکھائی اور انگوٹھوں کے نشانات کے موازنے کیلئے ماہرین کی مدد ضروری ہے، عدالت ماہر رائے کی پابند نہیں مگر اس سے انصاف کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے، سائنسی شواہد کو نظر انداز کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس جھوٹ کا پلندہ، حقائق کے منافی اور محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، شفیع جان
ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم
فیصلے میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ 12 فروری اور 30 جون 2025 کے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتی ہے، فرانزک سائنس لیبارٹری سے مرحوم کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ کرایا جائے۔
درخواست گزاروں کی استدعا
واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے مرحوم محمد خالد کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کا فرانزک موازنہ کرانے کی استدعا کی تھی، درخواست گزاروں نے نکتہ اٹھایا تھا کہ چار مرلہ پلاٹ کی فروخت کا معاہدہ جعلی ہے اور مرحوم نے دستاویز پر دستخط نہیں کئے۔








