اصول بنا لئے ہیں کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: چیئرمین نیب
قومی احتساب بیورو کا اصول
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کا کہنا ہے اصول بنا لیا ہے کہ کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ اجلاس میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت
جیونیوز کے ساتھ ملاقات
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کا اسلام آباد کے سینئر صحافیوں کے ساتھ پہلا باقاعدہ مکالمہ ہوا، اس ملاقات میں ڈپٹی چیئرمین نیب جسٹس (ر) سہیل ناصر، ڈی جی نیب راولپنڈی، اسلام آباد وقار چوہان، ڈی جی آپریشنز نیب امجد اولکھ سمیت سینئر حکام موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روک دیا
چیئرمین نیب کی کارکردگی
سوال و جواب کی طویل نشست میں چیئرمین نیب نے ادارے کی اڑھائی سالہ کارکردگی قومی دولت کی لوٹ مار میں ملوث با اثر شخصیات کی نشاندہی، ادارہ جاتی کرپشن روکنے، بہتر طرز حکمرانی سمیت دیگر عوامی اہمیت کے تمام امور پر کھل کر مکالمہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر اسرائیلی جارحیت، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بیان بھی آ گیا
ریکارڈ ریکوری اور جدید اقدامات
انہوں نے بتایا کہ نیب نے اڑھائی سال میں 8 ہزار 397 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی، نیب کو مکمل پیپر لیس بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 20، 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان
تحقیقات کے آغاز اور اقدامات
ان کا کہنا تھا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، کسی وزیر یا پارلیمینٹرین کو طلب نہیں کرتے، اسپیکر آفس میں خصوصی ڈیسک بنایا ہے، چیف سیکرٹریز اور تمام چیمبرز میں بھی سہولت ڈیسک بنائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ جانے والے نجی کمپنی کے 11 ملازمین اغواء، پولیس نے 6 بازیاب کرا لیے
شکایات پر کارروائی
چیئرمین نیب کا کہنا تھا سرکاری افسروں، کاروباری افراد کیخلاف شکایات پر متعلقہ ڈیسک کے جواب کے بعد کارروائی ہوتی ہے، اخلاقیات کے علمبردار کئی ملک ہمیں لیکچر ضرور دیتے ہیں، تعاون نہیں کرتے منی لانڈرنگ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
نیب کے ایس او پیز میں تبدیلی
چیئرمین نیب نے اڑھائی برسوں میں ہم نے نیب کے ایس او پیز بدلے، پارلیمان نے نیب ایکٹ میں 2 بڑی ترامیم کی منظوری دی، ہمارا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا نہیں ان لوگوں کو پکڑنا ہے جو قومی اثاثوں کی لوٹ مار میں ملوث ہیں، پارلیمنٹ نے قانون میں ترمیم کی تھی کہ نیب 50 کروڑ روپے سے زائد کے قومی غبن میں ملوث افراد کو پکڑے گا۔








