محمود خان اچکزئی کی تقاریر اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ریکارڈ منگوا لیا
محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر رکاوٹ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے نامزد محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری رک گئی۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی
قانونی جائزہ اور تقاریر کا ریکارڈ
سما ٹی وی کے مطابق پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی عدلیہ اور افواج مخالف تقاریر اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے محمود اچکزئی کی ایوان میں تقاریر کا ریکارڈ منگوا لیا ہے۔ ان تقاریر کا قانونی جائزہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی روشنی میں جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کس طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہے؟پالیسیوں سے 60سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے، آئینی بنچ کے سپر ٹیکس سے متعلق کیس میں ریمارکس
آئینی تحفظات
ذرائع کے مطابق ایوان میں افواج یا اعلیٰ عدلیہ پر تنقید خلاف آئین تصور کی جاتی ہے، اور تقاریر کا مواد اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ووٹ الف کو دیتے ہیں حکومت میں ب آجاتا ہے: پیر پگارا
دستخطوں کی تصدیق
دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے جمع درخواست پر موجود 74 ارکان کے دستخطوں کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔ اسپیکر ایاز صادق نے تاحال اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے قوانین، آئین و قانون کی مکمل جانچ کے بعد ہی فیصلہ متوقع ہے۔
پی ٹی آئی کی نامزدگیاں
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کی قیادت کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کردیا ہے۔








