حاضر سروس جج کے خلاف کارروائی جوڈیشل کونسل ہی کر سکتی ہے: جسٹس خادم حسین
اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ میں حاضر سروس جج کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا ہے کہ حاضر سروس جج کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل ہی کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمریت کے اندھیروں میں جمہوریت کی شمع روشن رکھی اور سیاست کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
درخواست گزار کی نمائندگی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وکیل کلثوم خالق کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر جسٹس خادم حسین سومرو نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب روانہ
عدالت کی کارروائی اور اعتراضات
درخواست گزار وکیل کلثوم خالق نے ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہو کر آگاہ کیا کہ میری درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں، جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے میرے خلاف غیر قانونی آبزرویشن دیں۔ میرا نام سپریم کورٹ کے لائسنس کی فہرست میں شامل تھا، عدالت کی آبزرویشن کے بعد مجھے سپریم کورٹ کا لائسنس نہ مل سکا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے اخراجات میں کمی کیلئے اہم اقدامات کا اعلان کردیا
ججز کے درمیان کارروائی کے سوالات
جسٹس خادم حسین سومرو نے سوال کیا کہ کیا ایک جج دوسرے جج کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے؟ وکیل کلثوم خالق نے کہا کہ یہ چیف جسٹس کے آرڈر کی خلاف ورزی ہے، اس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے وضاحت کی کہ اگر کسی حاضر سروس جج یا چیف جسٹس کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتا ہے تو وہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: خاتون کے ہاں بیک وقت 5 بچوں کی پیدائش
سابق عدالتی فیصلوں کا حوالہ
وکیل کلثوم خالق نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیس میں ڈویژن بنچ کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس خادم حسین نے کہا کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اپنی طاقت پر انحصار کر کے جنگ لڑی، غریدہ فاروقی کا بھارتی جنرل کے بیان پر تبصرہ
ججز کے طریقہ کار پر تبصرہ
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیئے کہ ہر ایک جج کا اپنا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے کورٹ کو کنڈکٹ کرنے کا۔ وکیل کلثوم خالق نے کہا کہ سنگل بنچ نے میرے خلاف آبزرویشن دیں جبکہ چیف جسٹس سمیت تین ججز انٹرویو کرنے کی کمیٹی میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے حکومت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش کردی
کیس کی سماعت کا نتیجہ
جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ ایک سٹنگ جج دوسرے کے خلاف کیسے کارروائی کر سکتا ہے، آپ کوئی قانون بتا دیں، ہم اس پر آرڈر جاری کریں گے۔
سماعت کا اختتام
بعدازاں کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، تحریری حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔








