یقین کریں یہ بڑے افسردہ اور دل دکھا دینے والے جنازے تھے ہر آنکھ آشک بار ہر دل اداس،اپنے نہ ہوتے ہو ئے بھی وہ اپنے تھے، دھرتی کے سپوت
مصنف کی شناخت
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 341
یہ بھی پڑھیں: ٹیم کراچی ویلفیئر سوسائٹی انٹرنیشنل نے گرینڈ رمضان راشن تقسیم مہم کا چوتھا مرحلہ مکمل کر لیا
حکومت کی موجودگی
صاحب ایسے جنازوں میں حکومت پنجاب اور چیف منسٹر کے نمائندے کے طور پر شرکت کرتے اور مقامی پولیس کے عہدے داروں اور پبلک کو حکومت کا پیغام مؤثر انداز میں دیتے کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں حکومت ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہے۔ صاحب کو بھی "تھرٹ" ہوتا مگر ہم بھی اللہ کے بھروسے پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ سیا لکوٹ میں اہل تشیع کی امام بارگاہ میں بم دھماکہ ہو یا فیصل آباد میں دہشت گردی میں شہادت پانے والے پولیس افسروں کا جنازہ ہو، پرویز مشرف پر قاتلانہ حملہ ہو، ہم ہر جگہ پہنچے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ہر کام میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں ،منتخب ہونے کے بعد کن 3 ملکوں کے سربراہوں سے بات کی۔۔۔؟ حسین حقانی کھل کر بول پڑے
شیڈول کی تفصیلات
سیالکو ٹ دھماکے میں شھید ہونے والوں کے جنازے میں شرکت کے لئے آئے ڈی پی او سیالکوٹ دفتر میں سارے انتظامی افسران، کچھ منتخب نمائندے جن میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان شامل تھیں۔ بڑی بے باک، سفاک اور اپنے دور کی بڑی چلتی پھرتی ڈاکٹر بھی تھیں۔ اس دور میں یہ چوہدریوں کی سیاست کے گن گاتی تھیں پھر یہ پیپلز پارٹی کا جھنڈا گلے میں لئے ان کا طوق بجاتی رہی، بعد میں پی ٹی آئی کو پیاری ہوئیں، عمران خاں کی مالا جپی اور آج کل استحکام پارٹی کو استحکام بخش رہی ہیں۔ ہم نظریہ کی نہیں وقت اور مفادات کی سیاست کرنے والے ہیں اور یہ ایسی سینکڑوں مثالوں کی ایک مثال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویرانی سے روشنی تک، پی ایس ایل کی کہانی
جنازے میں شرکت کی مشکلات
جنازے کا وقت ہوا تو صاحب نے ڈی آئی جی گوجرانوالہ الطاف قمر کے مشورہ پر کہ لوگوں کے جذبات بہت مشتعل ہیں جنازہ میں شرکت نہ کی مگر مقامی ایم پی اے اور وزیر صنعت اجمل چیمہ اور دو تین مقامی ایم پی اے جن میں ارشد بگو بھی شامل تھے اس مشورے کو ignore کیا اور جنازے میں شرکت کے لئے گئے لیکن بڑی مشکل سے جان بچا سکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف آپریشن تاریخی اعلان ہے کہ ہم کمزور نہیں: مریم نواز
فیصل آباد کا واقعہ
فیصل آباد میں شہادت پانے والے پولیس جوانوں اور افسروں کے جنازے میں شرکت کے لئے صاحب، آئی جی پنجاب مسعود خان، ان کے سٹاف افسر اور میں سی ایم کے جہاز میں فیصل آباد آئے۔ جنازے میں شرکت کی۔ قبروں پر اس دھرتی کے پھولوں کو اتارا اور اُن پھولوں پر گلاب کی پتیوں کی چادر چڑھائی۔ یقین کریں یہ بڑے افسردہ اور دل دکھا دینے والے جنازے تھے کہ ہر آنکھ آشک بار تھی اور ہر دل اداس۔ اپنے نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے تھے۔ میری ہی دھرتی کے سپوت۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ باغبانپورہ ٹریفک حادثے کے متاثرین کے گھر پہنچ گئیں
جنرل پرویز مشرف کا واقعہ
جنرل پرویز مشرف پر جب پہلی بار قاتلانہ حملہ ائیر پورٹ روڈ راولپنڈی کے جھنڈاپل کے سامنے واقع پیٹرول پمپ کے قریب ہوا تو ہم اس پل کے دوسری جانب دو تین منٹ کی دوری پر تھے۔ ہم اس جگہ پہنچے تو ابھی فضاء مٹی اور دھول سے بھری تھی۔ پل ناقابل استعمال ہو چکا تھا۔ مشرف کو اللہ نے بچا لیا تھا اور ہمیں یہاں اس ڈراؤنے خواب کی تعبیر کے لئے بھیج دیا تھا۔ موت اور مشرف کے درمیان لمحوں کا ہی فرق تھا مگر "موت ہی انسان کی سب سے بڑی محافظ ہے جو وقت سے پہلے اسے مرنے نہیں دیتی۔" اللہ معجزے دکھاتا ہی رہتا ہے شاید ہمیں سمجھ نہیں آتی ہے۔ جب 2023ء میں موت نے مشرف کو آن لیا تو بے بسی اور لاچارگی کی انتہا تھی۔ بے شک زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے۔ (جاری ہے)
اہم نوٹ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








