گنگا کنارے پہنچے تو میڈیا والے جھپٹ پڑے، خیالوں میں گنگا کو صاف ستھرے روپ میں دیکھتے رہے لیکن معاملہ اْلٹ ہے، دریا شروع ہی سے اتنا میلا ہے؟

مصنف اور قسط کی تفصیلات

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 217

یہ بھی پڑھیں: بھاؤگو گاؤں کی اماں اور اسکی بیٹی ایک کام کے سلسلے میں ملنے آئی

سرگرمیوں کی شروعات

نعروں کے جوش خروش میں ہم سیڑھیاں چڑھ کر پشتے کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران "دوردرشن" اور بہت سے پرائیویٹ ٹی وی چینل والے اس ساری کارروائی کو ریکارڈ کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: جس دن انصاف ہوگا عمران خان آدھے گھنٹے میں جیل سے باہر ہوں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

دریا میں کارروائیاں

پشتے سے اتر کر ہم لوگ گنگا کنارے پہنچے تو دیپک مالوی نے ہدایات دیتے ہوئے بتایا کہ ہم لوگوں کو جوتے، جرابیں اْتار کر دریا میں اترنا ہے اور اس کی تہہ میں جمی ہوئی آلائشوں کو کھینچ کر نکالنا ہے۔ دریا میں بہہ کر آتے ہوئے مومی لفافوں کو پکڑ کر جمع کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق، مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری

ہماری مصروفیات

آلودگی آمیز جو چیزیں دکھائی دیں انہیں قابو کرنا ہے اور یہ تمام آلائشیں دریا کنارے رکھی جائیں گی اور رضاکاروں کے ہاتھوں میں اٹھائی ہوئی ٹوکریوں میں ڈالنا ہے۔ بعدازاں سب سے پہلے پاکستانی وفد کو گنگا میں اْترنے کی دعوت دی گئی۔ ہم لوگوں نے باجماعت جوتے اتارے، پھر پتلونوں کے پائنچے چڑھائے اور اللہ کا نام لیکر دریا میں اْتر گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا گردوں کے مریضوں کیلئے ڈائیلائسز کارڈ لانچ کرنے کا اعلان

پانی میں ہماری حالت

ام کلثوم اور مبّرا اعجاز اپنے سرخ اور نارنجی رنگ کے سوٹوں کی پرواہ کئے بغیر پانی میں اْتریں۔ ہم سے کچھ آگے اْمّ کلثوم، مبّرا اعجاز اور سجاد بٹ پانی میں گوڈے گوڈے ڈوبے ہوئے تھے اور آلائشوں کو مچھلیوں کی طرح پکڑنے کی کوشش میں مصروف تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس

مزید رضاکاروں کا کردار

ظفر علی راجہ اور جہانگیر جھوجھہ سطح آب پر تیرتے ہوئے مومی لفافوں پر ماہر شکاریوں کی طرح لپک رہے تھے۔ جھوجھہ سے آگے راقم اور سرفراز سید بھی دریا میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عوام کی اکثریت بدظن ہو چکی، سیاسی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کا احتساب کرنے کے لئے سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل احتسابی کمیشن تشکیل دیا جائے

دریا کی صفائی میں شرکت

ہماری دائیں بائیں دیپک مالوی ایڈووکیٹ اور کلاسیکل ڈانسر ڈاکٹر چترن تھے جو ہاتھ نچاتے ہوئے "گنگا میا…پوتّر میا" کے پرجوش نعرے لگا رہے تھے۔ ان کے اردگرد کچھ ہندو رضاکار ننگے بدن نیکر پہنے دریا میں ڈبکیاں لگا کر گنگا اشنان میں مصروف تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟

سماجی گفتگو

ظفر علی راجا نے شسما دیوی سے پوچھا کہ ہم تو اپنے خیالوں میں گنگا کی موجوں کو صاف ستھرے روپ میں دیکھتے رہے ہیں لیکن یہاں تو معاملہ اْلٹ ہے۔ شسما نے بتایا کہ سْنا ہے کہ ایک زمانے میں یہ پانی موتیوں کی طرح شفاف ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: روسی صدر پیوٹن نے ایران کے جوہری تنازع پر ثالثی کی پیشکش کردی

دوران کام دلچسپ لمحات

ایک بجے دوپہر کا وقت ہے کہ دیپک مالوی میری طرف آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر دریا کے کنارے کی طرف چلنے لگے۔ کنارے کے قریب پہنچے تو راقم کا پاؤں پانی کی تہہ میں پھنسی ہوئی ایک بوری سے جا ٹکرایا۔ میں نے فوراً پانی میں ہاتھ ڈال کر بوری کا ایک کونا پکڑ لیا اور کھینچنے لگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایک اور آئی پی پی معاہدہ قبل ازوقت ختم کرنے پر تیار

میڈیا کی موجودگی

ٹیلی ویژن اور اخبارات کے فوٹوگرافروں نے اس زور آزمائی کی بہت تصویریں بنائیں۔ ہم گنگا کنارے پہنچے تو میڈیا والے ہم پر جھپٹ پڑے۔ جہانگیر جھوجھہ، اْمّ کلثوم، مبّرا اعجاز، سجاد محمود بٹ، ظفر علی راجا اور سرفراز سید کے انٹرویوز ریکارڈ کئے گئے۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...