کوئٹہ سے اسلام آباد کا ہوائی کرایہ 75 ہزار سے تجاوز کرگیا، وزیراعلیٰ بلوچستان کا ٹکٹ سستے کرنے کا مطالبہ
کرایوں میں غیرمعمولی اضافہ
کوئٹہ (آئی این پی) کوئٹہ سے اسلام آباد کا کرایہ 75 ہزار سے زائد ہوگیا، جس پر وزیراعلی سرفرازبگٹی نے بلوچستان کے فضائی سفر کیلئے ٹکٹ سستے کرنے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہی پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے کہ اپنے متعلق کچھ نہ سوچیں، چاپلوسی ہی کامیابی کا زینہ ہے، سرزنش سنیں اور مہینوں احساس جرم میں مبتلا رہیں
قرارداد کی تفصیل
تفصیل کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں فضائی کرایوں میں غیرمعمولی اضافے کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں شہریوں کی مشکلات اور ایئرلائنز کی خدمات کی ناقص صورتحال پر روشنی ڈالی گئی۔ رکن صوبائی اسمبلی شاہدہ رئوف نے کہا کہ سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور کوئٹہ سے اسلام آباد کیلئے کرایہ 75 ہزار روپے سے زائد ہو چکا ہے جبکہ کراچی سے اسلام آباد کرایہ 15 سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو گرفتار، رجب بٹ کا ویڈیو پیغام بھی آگیا
ایمرجنسی کی صورت حال
شاہدہ رئوف نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کی صورت میں کہیں جانا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ٹکٹ دستیاب نہیں، اور کوئٹہ سے صرف پی آئی اے اور ایک نجی ایئرلائن کی فلائٹس چل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمایوں دلاور کیخلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیس؛ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے جسمانی ریمانڈ معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
رکن اسمبلی کا بیان
اجلاس میں رکن اسمبلی برکت علی رند نے بتایا کہ انہوں نے تین افراد کے لیے کوئٹہ سے کراچی فضائی کرایہ کے لئے 2 لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے اور تربت کیلئے ہفتے میں کم از کم ایک فلائٹ چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے ایئرلائنز کے چیف آفز کو بلا کر جواب طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی والو، خان کے نمائندے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مایوس نہیں کرنا: بیرسٹر گوہر
وزیراعلی کا موقف
وزیراعلی سرفرازبگٹی نے بلوچستان کے فضائی سفر کیلئے ٹکٹ سستے کرنے کا مطالبہ کردیا، اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کہ عوام جا کر ایئرپورٹ کا گھیرائو کر کے آگ لگادیں، وفاقی حکومت فضائی کرایوں میں کمی کیلئے سنجیدگی سے سوچے۔
عوامی مشکلات اور کاروائی کا خدشہ
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام فضائی کرایوں میں اضافے سے شدید پریشان ہیں، اور وہ سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر خط بھی لکھا لیکن وزیر ہوا بازی نے خط کا اب تک جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ وفاقی ادارے غیرسنجیدہ رہے تو یہ مسئلہ امن و امان کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ ہم سولہ ایم پی او کے تحت ایئرلائنز کے ریجنل ہیڈ کو گرفتار بھی کرسکتے ہیں۔ تمام پارلیمانی لیڈرز کو دعوت دیتاہوں کہ ساتھ چلیں، مل کروزیراعظم سے ملاقات کریں اور اس مسئلے کو قومی سطح پر اٹھائیں۔








