کوئٹہ سے اسلام آباد کا ہوائی کرایہ 75 ہزار سے تجاوز کرگیا، وزیراعلیٰ بلوچستان کا ٹکٹ سستے کرنے کا مطالبہ
کرایوں میں غیرمعمولی اضافہ
کوئٹہ (آئی این پی) کوئٹہ سے اسلام آباد کا کرایہ 75 ہزار سے زائد ہوگیا، جس پر وزیراعلی سرفرازبگٹی نے بلوچستان کے فضائی سفر کیلئے ٹکٹ سستے کرنے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے
قرارداد کی تفصیل
تفصیل کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں فضائی کرایوں میں غیرمعمولی اضافے کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں شہریوں کی مشکلات اور ایئرلائنز کی خدمات کی ناقص صورتحال پر روشنی ڈالی گئی۔ رکن صوبائی اسمبلی شاہدہ رئوف نے کہا کہ سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور کوئٹہ سے اسلام آباد کیلئے کرایہ 75 ہزار روپے سے زائد ہو چکا ہے جبکہ کراچی سے اسلام آباد کرایہ 15 سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ون کیس؛بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت 14نومبر تک ملتوی
ایمرجنسی کی صورت حال
شاہدہ رئوف نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کی صورت میں کہیں جانا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ٹکٹ دستیاب نہیں، اور کوئٹہ سے صرف پی آئی اے اور ایک نجی ایئرلائن کی فلائٹس چل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی میزائل درستگی سے ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں، کیا چین میزائل گائیڈنس سسٹم کے ذریعے مدد فراہم کر رہا ہے؟ تجزیہ کار ماریو نوفال کو سوال
رکن اسمبلی کا بیان
اجلاس میں رکن اسمبلی برکت علی رند نے بتایا کہ انہوں نے تین افراد کے لیے کوئٹہ سے کراچی فضائی کرایہ کے لئے 2 لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے اور تربت کیلئے ہفتے میں کم از کم ایک فلائٹ چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے ایئرلائنز کے چیف آفز کو بلا کر جواب طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی لورا لائی اور کیچ میں کارروائیاں، 5 دہشتگرد ہلاک
وزیراعلی کا موقف
وزیراعلی سرفرازبگٹی نے بلوچستان کے فضائی سفر کیلئے ٹکٹ سستے کرنے کا مطالبہ کردیا، اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کہ عوام جا کر ایئرپورٹ کا گھیرائو کر کے آگ لگادیں، وفاقی حکومت فضائی کرایوں میں کمی کیلئے سنجیدگی سے سوچے۔
عوامی مشکلات اور کاروائی کا خدشہ
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام فضائی کرایوں میں اضافے سے شدید پریشان ہیں، اور وہ سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر خط بھی لکھا لیکن وزیر ہوا بازی نے خط کا اب تک جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ وفاقی ادارے غیرسنجیدہ رہے تو یہ مسئلہ امن و امان کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ ہم سولہ ایم پی او کے تحت ایئرلائنز کے ریجنل ہیڈ کو گرفتار بھی کرسکتے ہیں۔ تمام پارلیمانی لیڈرز کو دعوت دیتاہوں کہ ساتھ چلیں، مل کروزیراعظم سے ملاقات کریں اور اس مسئلے کو قومی سطح پر اٹھائیں۔








