ریلوے کے نظام کی کمپیوٹرائزیشن اور امریکہ سے آنے والے انجنوں کی تربیت کی ضرورت
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 316
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کے سیاسی کردار کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کی بڑی بہن روبینہ خان کا بیان آ گیا
اسٹیشن ماسٹر کی تربیت
اسٹیشن ماسٹر کو دفتری اور انتظامی کام کاج کے علاوہ تکنیکی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ یہاں گاڑی کے ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ کو نئے آنے والے برقی اور کمپیوٹر آلات اور دوسری ساز و سامان کے بارے میں مسلسل اور مکمل تکنیکی آگہی دی جاتی ہے۔ نئے انجن اور آلات آنے پر اِن کو ضروری تربیت کے لیے بھی بلایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفر گڑھ: ایک ماہ میں ایک ہی بستی کے 9 کم عمر بچے بیماری سے انتقال کر گئے
تبدیلی کی ضرورت
اب جب کہ ریلوے کا سارا نظام انسانی ہاتھوں سے نکل کر آہستہ آہستہ کمپیوٹر کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا جا رہا ہے، اس قسم کی تربیت بے حد ضروری ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر امریکہ سے جو انجن آئے ہیں، وہ بہت ہی پیچیدہ اور جدید ٹیکنالوجی پر کام کرتے ہیں، اس کو سنبھالنے کے لیے یہ تربیت بہت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا
جدید سسٹمز کی معلومات
اسی طرح پرانے دستی ٹوکن جاری کرنے کے نظام کے ساتھ ساتھ جدید سگنل سسٹم اور خودکار طریقے سے پٹریوں کی تبدیلی کے بارے میں جاننا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ زیر تربیت ملازمین کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نپٹنے کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تھینک یو اور تھینکس میں کیا فرق ہے؟ کون سا استعمال کرنا چاہیے؟
ہاسٹل کی سہولیات
اس اکیڈمی میں 500 طلبہ کے لیے 9 ہاسٹلوں کی سہولت موجود ہے، جن میں سے ایک ہاسٹل غیر ملکی طالب علموں کے لیے بھی ہے جہاں وہ شاندار ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں رہ کر اپنی تربیت مکمل کرتے ہیں۔ ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے لیے معیاری کھانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہاں طلبہ بہت آرام دہ ماحول میں رہ کر اپنی تعلیم و تربیت مکمل کرتے ہیں۔ ان کو کھیل کود کے مواقع بھی دئیے جاتے ہیں جس کے لیے اکیڈمی میں ہر طرح کے کھیل کے میدان اور جمنازیم وغیرہ بھی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بارش پاک بھارت ٹاکرے کا مزہ خراب نہیں کرے گی بلکہ اسے مزید سنسنی خیز بنا دے گی،ٹیسٹ کرکٹر عامر سہیل
تربیتی مراکز
پاکستان ریلوے کی اس اکیڈمی میں ریلوے سے منسلک دو اور انتہائی اہم اداروں کے تربیتی مراکز بھی قائم ہیں۔ یعنی:
- پاکستان ریلوے پولیس ٹریننگ سنٹر
- پاکستان ریلویز اکاؤنٹس ٹریننگ سنٹر
ان دونوں اداروں کے ملازمین بھی یہاں اپنے مقررہ نصاب کے مطابق اپنے کورس مکمل کرتے ہیں۔ ریلوے کے یہ ملازمین براہ راست تو ریلوے کے عملی اور تکنیکی نظام کا حصہ نہیں ہیں لیکن یہ محکمے کا اٹوٹ انگ سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوئی ناردرن گیس کمپنی نے گیس کی قیمت 291 روپے اضافے کا مطالبہ کر دیا
مستقبل کا منصوبہ
مستقبل کے حوالے سے ریلوے اکیڈمی کو علاقے کی سب سے پہلی اور جدید ترین ریلوے یونیورسٹی بنانے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے۔ جہاں ریلوے کے ہر ڈیپارٹمنٹ پر تحقیق کی سہولتیں بھی میسر ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کے یومِ فتح کی مرکزی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شرکت
چین کی سرمایہ کاری
اس سلسلے میں چین کے ساتھ حال ہی میں جو ایم ایل کا سمجھوتہ طے پایا ہے، اس کے مطابق چین اس حوالے سے کافی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں وہ اس یونیورسٹی کی تعمیر اور تنظیمِ نو کرنے کے علاوہ یہاں جدید تکنیکی سہولتیں اور مشینری وغیرہ بھی فراہم کرے گا، جس کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ جب یہ یونیورسٹی مکمل طور پر فعال ہو گی تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہو گی۔
نوٹ
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








