ریلوے کے نظام کی کمپیوٹرائزیشن اور امریکہ سے آنے والے انجنوں کی تربیت کی ضرورت
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 316
یہ بھی پڑھیں: 1977ء میں جنرل محمد ضیاء الحق بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے بعد چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر بن گئے، عطیہ عنایت اللہ کو مرکزی کیبنٹ میں شامل کر لیا
اسٹیشن ماسٹر کی تربیت
اسٹیشن ماسٹر کو دفتری اور انتظامی کام کاج کے علاوہ تکنیکی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ یہاں گاڑی کے ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ کو نئے آنے والے برقی اور کمپیوٹر آلات اور دوسری ساز و سامان کے بارے میں مسلسل اور مکمل تکنیکی آگہی دی جاتی ہے۔ نئے انجن اور آلات آنے پر اِن کو ضروری تربیت کے لیے بھی بلایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 97 فیصد اضافے سے 82 ہزار روپے ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے
تبدیلی کی ضرورت
اب جب کہ ریلوے کا سارا نظام انسانی ہاتھوں سے نکل کر آہستہ آہستہ کمپیوٹر کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا جا رہا ہے، اس قسم کی تربیت بے حد ضروری ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر امریکہ سے جو انجن آئے ہیں، وہ بہت ہی پیچیدہ اور جدید ٹیکنالوجی پر کام کرتے ہیں، اس کو سنبھالنے کے لیے یہ تربیت بہت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈز کیس کا سماعت
جدید سسٹمز کی معلومات
اسی طرح پرانے دستی ٹوکن جاری کرنے کے نظام کے ساتھ ساتھ جدید سگنل سسٹم اور خودکار طریقے سے پٹریوں کی تبدیلی کے بارے میں جاننا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ زیر تربیت ملازمین کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نپٹنے کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیر کی حویلی میں قتل ہونے والی بچی کی والدہ کا سنسنی خیز انکشاف
ہاسٹل کی سہولیات
اس اکیڈمی میں 500 طلبہ کے لیے 9 ہاسٹلوں کی سہولت موجود ہے، جن میں سے ایک ہاسٹل غیر ملکی طالب علموں کے لیے بھی ہے جہاں وہ شاندار ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں رہ کر اپنی تربیت مکمل کرتے ہیں۔ ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے لیے معیاری کھانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہاں طلبہ بہت آرام دہ ماحول میں رہ کر اپنی تعلیم و تربیت مکمل کرتے ہیں۔ ان کو کھیل کود کے مواقع بھی دئیے جاتے ہیں جس کے لیے اکیڈمی میں ہر طرح کے کھیل کے میدان اور جمنازیم وغیرہ بھی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف عید سعودی عرب میں منائیں گے،فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہمراہ ہوں گے۔
تربیتی مراکز
پاکستان ریلوے کی اس اکیڈمی میں ریلوے سے منسلک دو اور انتہائی اہم اداروں کے تربیتی مراکز بھی قائم ہیں۔ یعنی:
- پاکستان ریلوے پولیس ٹریننگ سنٹر
- پاکستان ریلویز اکاؤنٹس ٹریننگ سنٹر
ان دونوں اداروں کے ملازمین بھی یہاں اپنے مقررہ نصاب کے مطابق اپنے کورس مکمل کرتے ہیں۔ ریلوے کے یہ ملازمین براہ راست تو ریلوے کے عملی اور تکنیکی نظام کا حصہ نہیں ہیں لیکن یہ محکمے کا اٹوٹ انگ سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت پر بسیں اور رکشے فری چلانے کا اعلان
مستقبل کا منصوبہ
مستقبل کے حوالے سے ریلوے اکیڈمی کو علاقے کی سب سے پہلی اور جدید ترین ریلوے یونیورسٹی بنانے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے۔ جہاں ریلوے کے ہر ڈیپارٹمنٹ پر تحقیق کی سہولتیں بھی میسر ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: 12 سالہ لڑکے نے خواہش پوری نہ ہونے پر زندگی کا خاتمہ کرلیا
چین کی سرمایہ کاری
اس سلسلے میں چین کے ساتھ حال ہی میں جو ایم ایل کا سمجھوتہ طے پایا ہے، اس کے مطابق چین اس حوالے سے کافی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں وہ اس یونیورسٹی کی تعمیر اور تنظیمِ نو کرنے کے علاوہ یہاں جدید تکنیکی سہولتیں اور مشینری وغیرہ بھی فراہم کرے گا، جس کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ جب یہ یونیورسٹی مکمل طور پر فعال ہو گی تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہو گی۔
نوٹ
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








