تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد، محکمہ سکول ایجوکیشن نے اسکولز میں ڈنڈا رکھنے پر پابندی عائد کردی
تشویشناک صورتحال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب بھر کے سکولوں میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ، محکمہ سکول ایجوکیشن نے سکولوں میں ڈنڈا رکھنے پر سخت پابندی عائد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمِ امن کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو
تشدد کے کیسز میں اضافہ
لاہور نیوز کے مطابق تعلیمی سال 2024-25 میں اساتذہ کی جانب سے بچوں پر تشدد کے 70 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں تعلیمی سال میں اب تک بچوں پر تشدد کے 81 سے زائد کیس رپورٹ کیے جاچکے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں متعدد بار قرار داد پیش ہونے کے باجود بچوں پر تشدد کیلئے کوئی واضح قانون سازی نہیں کی جاسکی۔
یہ بھی پڑھیں: ایمل ولی خان نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے رویے کے خلاف سینیٹ میں تحریکِ استحقاق جمع کرا دی
سخت اقدامات
اب سکولوں میں ڈنڈا رکھنے پر متعلقہ ٹیچرز کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ڈنڈے سے بچوں پر شدید تشدد پر متعلقہ ٹیچرز کیخلاف ایف آئی آر درج ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور پاکستان کے درمیان ٹرانسپورٹ روابط سے عوامی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں
سزا کا نظام
محکمہ سکول ایجوکیشن حکام کا کہنا ہے کہ سکولوں میں بچوں پر جسمانی، ذہنی اور بول کر تذلیل یا تشدد کرنے پر بھی سزا ہوگی۔ بچوں پر تشدد کے حوالے سے قانون سازی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔
قانون سازی کی پیش رفت
قانون سازی کیلئے سمری آئندہ منظوری کیلئے کابینہ کمیٹی کو بھیجوائی جائے گی۔ 15 روز کے اندر سمری کابینہ کمیٹی سے منظور کروالی جائے گی۔








