پی ٹی آئی قیادت جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں کرنا چاہتی ہے، عقیل ملک
وزیر مملکت برائے قانون کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں کرنا چاہتی ہے، جبکہ عمران خان سے ملنے آنے والی ان کی فیملی بھی سیاسی معاملات ہی پر گفتگو کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: دہشت گردوں اور منشیات سمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
ملاقاتوں کا طریقہ کار
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملاقاتیں کسی کی خواہش کے مطابق طے نہیں ہوتیں؛ یہ مکمل طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے اختیار اور جیل مینول کے اصولوں کے تحت ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکن ایئرلائن Fits Air نے پاکستان میں اپنی فضائی سروسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا
ماضی کے تجربات
عقیل ملک کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں سے متعلق ہر قدم پریزن رولز کے مطابق اٹھایا جاتا ہے۔ ماضی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی کو 9 ماہ تک کسی سے ملنے نہیں دیا گیا، نواز شریف کی بھی تین ہفتوں تک ملاقاتیں بند رہیں، اور ملاقات کے دوران ان سے کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی جاتی تھی۔
جیل میں قیدیوں کی صورتحال
انہوں نے مزید کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔ اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 804 ہی نہیں، سینکڑوں دیگر قیدی بھی موجود ہیں اور انتظامیہ کو سب کی سکیورٹی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔








