ریڑھی چھین لی، بچوں کا سکول چھوٹ گیا، کون ہے میری بد حالی کا ذمہ دار؟ پیرافورس کی کارروائی سے متاثرہ شخص کی دہائی
بدحال شہری کی دہائی
لاہور (سحر امین سے) میری ریڑھی چھین لی گئی، بچوں کا سکول چھوٹ گیا، کون ہے میری بد حالی کا ذمہ دار؟ پیرافورس کی کارروائی سے متاثرہ شخص کی دہائی، ارباب اقتدار سے فوری انصاف اور رحم کی اپیل کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: سوال یہ ہے کہ سیاسی اکابرین قوم کو کیا درس دے رہے ہیں: محفوظ النبی خان
کاروبار کی تباہی
تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے معروف بازار لنک روڈ پر جرابوں کی ریڑھی لگانے والے ایک شہری نے اپنی دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا ہے کہ میں دن بھر محنت کر کے ریڑھی پر جرابیں بیچتا ہوں۔ میرے بچے پرائیویٹ سکول میں پڑھتے تھے اور ریڑھی سے عزت سے روزی روٹی چل رہی تھی، لیکن پیرا فورس کی مسلسل کارروائیوں نے میرا برسوں پرانا چھوٹا سا کاروبار تباہ کر دیا۔ میری ریڑھی چھین لی گئی اور اب میں شدید معاشی بحران کا شکار ہوں۔
بچوں کی تعلیم میں مشکلات
متاثرہ شخص نے ''ڈیلی پاکستان آن لائن'' کو اپنی دکھ بھری داستان بتاتے ہوئے مزید کہا کہ کاروبار تباہ ہونے کے بعد اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکول سے نکال کر سرکاری سکول میں داخل کرانا پڑا، مگر وہاں بچوں کو کتابوں کی چوری اور ماحول سے عدم مطابقت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ روز بروز بگڑتی صورتحال کے باعث اب بچوں کو سرکاری سکول سے بھی اٹھا لیا ہے۔ اب میرے بچے سڑک پر میرے زمین پر رکھے جرابوں کے ٹھیلے پر میرے ساتھ کام کرتے ہیں تاکہ پیرا فورس کی اچانک کارروائی کی صورت میں سامان سمیٹنے اور بچ نکلنے میں میری فوری مدد کر سکیں۔








