پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل منظور
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے، ایوان نے اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری نے لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سکیم ایف بلاک میں بجلی کی تنصیب کا افتتاح کر دیا
بل کی منظوری
روزنامہ جنگ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ بل کے حق میں 160 اور مخالفت میں 79 ووٹ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم میں پارٹی پالیسی سے انحراف، پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا
اپوزیشن کی مخالفت
اس موقع پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے سپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری سکولوں کی حالت زار پر ازخودنوٹس کیس؛ سیکرٹری خزانہ کے پی سمیت دیگر ذاتی حیثیت میں طلب
وزیر قانون کا بیان
ایوان سے خطاب میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایکٹ کہتا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں سے متعلق ہے، قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں کہلاتے۔ جو ایسا کرتے ہیں انہیں آئین کے آرٹیکل 25 کا تحفظ حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ یہ ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا بل ہے، اس بل سے قیدی نمبر 804 کو کچھ نہیں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: نوٹیفکیشن جاری: اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ 2014 میں سپریم کورٹ نے کہا اقلیتوں کے لیے ایک کمیشن بنائیں، قانون میں واضح ہے کہ قادیانی غیرمسلم ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا شکریہ کہ ان کے اراکین نے اس بل میں ترامیم دیں۔
یہ بھی پڑھیں: نائجیریا کے شمال مشرق میں شدت پسندوں کا خونریز حملہ، 7 فوجیوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک
چیئرمین سینیٹ کا اعلامیہ
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ویمن اور اقلیتیں میرا حلقہ ہیں، ان کے حقوق کے لیے ہمارے قائد نے جب پرچم بنایا تھا تو سفید حصہ اقلیتوں کے لیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نشے میں دھت شخص نے ایک پاؤ آلو چوری ہونے پر پولیس بلالی
جے یو آئی کی رائے
اس موقع پر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ اقلیتوں کا نہیں اس پر ہم سب کی سوچ ایک ہے، ہم ایسے قانون کی طرف کیوں جارہے ہیں جس سے کوئی فائدہ اٹھائے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کے مخالف ہیں، اس مجوزہ قانون کے سیکشن 35 کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ: کھیلتے ہوئے تالاب میں گرنے والی 4 بچیوں کی لاشیں مل گئیں
انسانی حقوق کا مسئلہ
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق نہیں ہیں، اہم اجلاس میں غیرمعمولی قانون سازی ہو رہی ہے، مگر ایوان میں لیڈرآف دی اپوزیشن نہیں۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا قانون بغیر ڈاڑھی والے ذوالفقارعلی بھٹو نے پاس کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی فلڈ گیٹ نہ کھولیں جس سے ناموس پر کوئی حرف آئے، ہم ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے۔








