حکومت معاشی پالیسی کے لحاظ سے ناکام ہوچکی، ملک میں بے روزگاری بڑھ گئی، عوام کے پاس 2 وقت کی روٹی کے پیسے نہیں، اسد عمر
اسلام آباد میں پریس کانفرنس
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ موجود مسائل حقیقی ہیں اور انہیں حل کرنے کے متنوع طریقے موجود ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکیب الحسن کا جان بوجھ کر غیر قانونی ایکشن سے بولنگ کروانے کا انکشاف
معاشی پالیسیاں اور بے روزگاری
اسد قیصر نے مزید کہا کہ حکومت اقتصادی پالیسی کے لحاظ سے ناکام ہوچکی ہے۔ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی بڑھ رہی ہے، اور عوام کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا اجلاس طویل عرصے بعد ہورہا ہے اور خیبرپختونخوا کو اس کا صحیح حصہ نہیں مل رہا۔ گیس کی رائلٹی کی مد میں بھی رقوم روکی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اشتہاریوں کی گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ، لاہور پولیس نے سال 2025 کا شاندار کارکردگی ریکارڈ جاری کر دیا
خیبرپختونخوا کی مشکلات
اسد قیصر نے واضح کیا کہ غیر ملکیوں کو ہوائی اڈوں کی سروس فراہم کرنے کی وجہ سے خیبرپختونخوا عالمی سیاست میں شامل ہو گیا ہے۔ افغان جنگ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے بھی صوبے کو نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کے نتیجے میں کوئی سرمایہ کار یہاں نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا ‘براہمنوں کا شہر’ جو اپنی نیلی شناخت کھو رہا ہے
قبائلی اضلاع کی حالت
انہوں نے قبائلی اضلاع کی حالت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ وہاں روزگار اور تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔ قبائلی علاقے 2 ہزار کلو میٹر پر مشتمل ہیں اور قبائلیوں کے کاروبار کو اسمگلنگ کا نام دیا جا رہا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔
پاک فوج کی حمایت
اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں اور ان کے آئینی ذمہ داریوں کی نگرانی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے اپنے دور میں افغانستان اور افریقی ممالک کے ساتھ تجارت کو بہتر بنانے کی کوششوں کا ذکر کیا۔








