سینیٹ سے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا بل منظور
سینیٹ میں نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل 2025 کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل 2025 منظور کرلیا جس کے تحت اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس کی صدارت پریزائنڈنگ افسر شہادت اعوان نے کی۔ یہ بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپر سیڈر پراجیکٹ لانچ: ہر تحصیل میں جدید زرعی آلات رینٹل سروسز شروع کرنے کا اعلان
سالانہ رپورٹس کی پیشی
اصولی پالیسی کی نگرانی و عمل درآمد سے متعلق سالانہ چار سالہ رپورٹس بھی سینیٹ میں پیش کی گئیں، جو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹ ادو میں المناک ٹریفک حادثہ، سکول جاتے 5 کم سن بچے جاں بحق
بل کی پیشکش اور اعتراضات
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ بل 14 نومبر کو رانا تنویر حسین نے پیش کیا تھا۔ بل پر آخری لمحات میں اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جن ترامیم پر اعتراض تھا وہ سب واپس لے لی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا؛ جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس کا فیصلہ بھی آ گیا، گرفتار ملزم اسماعیل کو 25سال قید کی سزا،احمد خان بھچر، رانا بلال اور احمد چٹھہ سمیت 50ملزم اشتہاری قرار
ملازمین کی نوکریاں محفوظ
وزیر قانون نے کہا کہ ادارے کے کسی ملازم کو نوکری سے فارغ نہیں کیا جائے گا، متاثر ہونے والے ملازمین کو سرپلس پول بھجوا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں مزید 100 پاکستانی زرعی ماہرین نے تربیتی پروگرام مکمل کر لیا
ایف بی آر کے ٹیکسٹ پیغامات پر توجہ
سینیٹر اسد قاسم نے ایف بی آر کی جانب سے فائلرز کو بینک بیلنس اور لین دین رقم سے متعلق ٹیکسٹ پیغامات بھجوانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا۔
سینیٹر اسد قاسم نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر ہمارے مالی لین دین کی اطلاعات کس طرح ایسے نشر کر رہا ہے؟ یہاں تو لوگ اپنی بیویوں سے بھی بینک بیلنس چھپاتے ہیں۔ میرا بطور ٹیکس گزار یہ حق ہے کہ میں بینک بیلنس سے متعلق معلومات اپنے فون کے ذریعے نہیں جاننا چاہتا، یہ معاملات راز داری کے ہوتے ہیں جو بطور ٹیکس گزار میرا حق بنتا ہے۔
ایف بی آر کی وضاحت
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ پیغامات صرف متعلقہ ٹیکس گزار کو ہی بھجوائے جاتے ہیں، ایف بی آر کو قوانین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے۔
صدر نشین نے معاملہ خزانے و محاصل کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔








