ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کا کیس، ملزم درخواست ضمانت خارج
برطانوی نژاد پاکستانی کی ضمانت خارج
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی ایٹ مرکز میں ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے کیس میں برطانوی نژاد پاکستانی شہری ملزم عاقب خان کی بعدازگرفتاری درخواست ضمانت خارج کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھیک مانگنے والی 10 سالہ بچی سے 3 افراد کی مبینہ زیادتی
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کے جج انوالحسنات ذوالقرنین نے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ وکیل ملزم عاقب کا کہنا تھا کہ میرا موکل برطانوی شہری ہے اور اسے پاکستانی قوانین کا علم نہیں تھا۔ یہ دہشتگردی کا کیس نہیں بنتا بلکہ پولیس نے جھوٹ پر مبنی مقدمہ درج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عامر خان کی گرل فرینڈ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پہلی بار عوامی مقام پر انٹری
پراسیکیوٹر کا مؤقف
پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ غیر ملکیوں کو پاکستانی قوانین کی زیادہ پاسداری کرنی چاہئے۔ ملزم سے اسلحہ برآمد ہوا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے ٹریفک اہلکار کو جان سے مارنے کی نیت رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ہرینی امر سوریا سری لنکا کی دوبارہ وزیراعظم مقرر
خوف و ہراس کا واقعہ
پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ کمرشل ایریا میں ملزم نے خوف و ہراس پھیلایا، جس کی ویڈیو ثبوت موجود ہے۔ مختلف عدالتی نظیریں موجود ہیں کہ پبلک مقامات پر خوف و ہراس پھیلانا دہشتگردی بنتا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم عاقب خان کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ ملزم کے خلاف تھانہ آئی نائن میں دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔








