ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کا کیس، ملزم درخواست ضمانت خارج
برطانوی نژاد پاکستانی کی ضمانت خارج
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی ایٹ مرکز میں ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے کیس میں برطانوی نژاد پاکستانی شہری ملزم عاقب خان کی بعدازگرفتاری درخواست ضمانت خارج کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9مئی میں سہیل آفریدی سمیت جو بھی ملوث ہیں اُنہیں سزا ہونی چاہیے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کے جج انوالحسنات ذوالقرنین نے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ وکیل ملزم عاقب کا کہنا تھا کہ میرا موکل برطانوی شہری ہے اور اسے پاکستانی قوانین کا علم نہیں تھا۔ یہ دہشتگردی کا کیس نہیں بنتا بلکہ پولیس نے جھوٹ پر مبنی مقدمہ درج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے سیکیورٹی پروٹوکولز میں اہم تبدیلی کا اعلان، چیف جسٹس کی گاڑیاں 8 سے کم کر کے 2 کردی گئیں
پراسیکیوٹر کا مؤقف
پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ غیر ملکیوں کو پاکستانی قوانین کی زیادہ پاسداری کرنی چاہئے۔ ملزم سے اسلحہ برآمد ہوا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے ٹریفک اہلکار کو جان سے مارنے کی نیت رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید اور رانا تنویر حسین کا ایک پیج پر ہونا اور پی ٹی آئی کے لیے پلان بنانا
خوف و ہراس کا واقعہ
پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ کمرشل ایریا میں ملزم نے خوف و ہراس پھیلایا، جس کی ویڈیو ثبوت موجود ہے۔ مختلف عدالتی نظیریں موجود ہیں کہ پبلک مقامات پر خوف و ہراس پھیلانا دہشتگردی بنتا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم عاقب خان کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ ملزم کے خلاف تھانہ آئی نائن میں دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔








