حکومت کا پرتشدد احتجاج کرنے والوں سے آڑے ہاتھوں نمٹنے کا فیصلہ، پولیس آرڈر (دوسری ترمیم) ایکٹ 2025ء پنجاب اسمبلی میں پیش
شہر اور صوبے میں املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر سمیت صوبے بھر میں املاک کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد مظاہرے کرنے والوں کے خلاف اب سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حکومتِ پنجاب نے پرتشدد احتجاج کرنے والوں سے آڑے ہاتھوں نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بیوی سے طلاق کے بعد دوسری شادی کرنے والا پہلی رات ہی لٹ گیا
نیا قانون: پولیس آرڈر (دوسری ترمیم) 2025
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس آرڈر (دوسری ترمیم) ایکٹ 2025ء پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت پُر تشدد احتجاج کرنے والوں کو سزائیں تو ہوں گی، تاہم انہیں ساتھ ہی نقصان کی بھرپائی بھی کرنا ہو گی۔ پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پیش کیے گئے بل کے تحت پرتشدد احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے رائٹ مینجمنٹ یونٹ قائم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پچھلے سال کی طرح اس بار بھی عید کے روز عمران خان کی اپنے بچوں سے ٹیلیفونک گفتگو کا انتظام کیا جائے گا، عطا تارڑ
رائٹ مینجمنٹ یونٹ کی تشکیل
بل کے متن کے مطابق رائٹ مینجمنٹ یونٹ کی ایڈمنسٹریشن ایڈیشنل آئی جی رینک کا افسر دیکھے گا اور اس یونٹ کو جدید آلات سے لیس کیا جائے گا۔ رائٹ مینجمنٹ یونٹ کے افسران کو غیر قانونی احتجاج سے نمٹنے کی باقاعدہ ٹریننگ بھی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سپنر ساجد خان کا راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے روز کے بارے میں دلچسپ بیان
غیر قانونی رائٹ زون کی تشکیل
بل کے مطابق غیر قانونی رائٹ زون کا تعین ضلعی ڈی سی کرے گا اور تعین کے بعد ضلعی پولیس کے سربراہ کو مطلع کرے گا۔ غیر قانونی رائٹ زون کے تعین کے بعد زون کو کارڈن آف کیا جا سکے گا۔ زون میں رائٹ مینجمنٹ یونٹ کے انسیڈینٹ کمانڈر احتجاج کرنے والوں سے نمٹیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ادارے نے اپنے ملازم کو سزا سنا دی، باقی کو بھی آگے بڑھنا چاہیے: عظمیٰ بخاری
انسیڈینٹ کمانڈر اور لیگل کاروائی
اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کے متن کے مطابق انسیڈینٹ کمانڈر انچارج پولیس اسٹیشن کے رینک کا افسر ہو گا۔ رائٹ مینجمنٹ افسران پر لیگل کاروائی نہیں ہو سکے گی۔ پرتشدد احتجاج کا ملزم قرار پائے جانے پر ملزم نقصان کی بھرپائی بھی کرے گا۔ ٹرائل کورٹ نقصان کا تعین محکمہ داخلہ کی مدد سے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے تین بڑے ایئر پورٹس بند کر دیئے گئے
نقصانات کا تعین
نقصان میں نجی و سرکاری املاک کو نقصان، انسانی جان کو نقصان اور انسانی جان جانے جیسے نقصانات شامل ہیں، تاہم ٹرائل کورٹ کے فیصلے ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ کے پاس چیلنج ہو سکیں گے۔
بل کی منظوری کا عمل
حکومتی ذرائع نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ رائٹ مینجمنٹ یونٹ میں رائٹ مینجمنٹ فورس کے افسران تعینات ہوں گے۔ بل 2 ماہ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا ہے، جس کے بعد اسے منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔








