تنظیم ”شوبھا ترقی اردو“ کا نام ”انجمن ترقی اردو“ رکھ دیا گیا، اولین صدر پروفیسر تھامس واکر آرنلڈ تھے، علامہ اقبال لائبریری کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔
مصنف
رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: لیاری واقعہ: پولیس رپورٹ میں 6 ایس بی سی اے افسران سمیت 14 افراد قصور وار قرار
قسط
248
یہ بھی پڑھیں: اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ باقی لوگ کمپرومائزڈ ہیں، آپ کو جو دکھائی دے رہا، وہ ویسا نہیں ہے: حسن ایوب
شوبھا ترقی اردو
اس کانفرنس کے زیر اہتمام ایک تنظیم شوبھا ترقی اردو قائم کی گئی، جس کے اولین صدر پروفیسر تھامس واکر آرنلڈ تھے جبکہ مشہور مصنف و دانشور علامہ شبلی بطور سیکرٹری اس میں شامل تھے۔ جلد ہی اس انجمن کا نام شوبھا ترقی اردو کی بجائے انجمن ترقی اردو رکھ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاداب خان کے کندھے کی انجری سے متعلق اہم پیشرفت
علامہ اقبال کی شمولیت
1936ء میں علامہ اقبال انجمن کی لائبریری کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کا مشورہ تھا کہ انجمن کا مستقل دفتر اورنگ آباد کی بجائے لاہور میں منتقل کر دینا چاہیے لیکن مولوی عبدالحق بابائے اردو کی تجویز پر یہ دفتر دہلی میں قائم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کیلئے گئے تو کہا گیا کہ سیاست پر بات نا کریں، تو کیا ہم موسم پر بات کریں؟ اسدقیصر
اہم شخصیات
انجمن کا امتیاز یہ ہے کہ اہل قلم شخصیات میں سے مولانا الطاف حسین حالی، علامہ شبلی نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد، مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال، مولانا حسرت موہانی، راجندر سنگھ بیدی، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، کرشن چندر جیسے مشاہیر انجمن کے عہدیدار رہ چکے ہیں۔ جبکہ مہاتما گاندھی، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر راجندر پرشاد، اندر کمال گجرال، فخرالدین علی احمد، سر تیج بہادر سیرو، جسٹس آنند نارائین مْلّا جیسے سیاستدان، قانون دان اور ڈاکٹر سروپ سنگھ (گورنر گجرات) جیسی سماجی ہستیاں کسی نہ کسی مرحلے پر اس ادارے سے منسلک رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر فرانس اور جرمنی بھی عاجز، اسرائیل کو خبردار کردیا
ڈاکٹر پرویز کا تعارف
ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ کمرے میں ڈاکٹر پرویز داخل ہوئے۔”بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد“ پر ان کی گراں قدر تحقیق پر ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا تھا۔ ابھی ہم لوگ ڈاکٹر اسلم پرویز سے ان کی دوسری کتاب ”سن ستاون کی دلّی“ کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ ایک اور صاحب جن کا نام ڈاکٹر خلیق انجم نے ہمیں ان کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا شریف الحسن نقوی ہیں جو دہلی اردو اکیڈمی کے بانی سیکرٹری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اطالوی بحری جہاز آئی ٹی ایس انتونیو مارچیلیاکی کراچی بندرگاہ آمد، پاک بحریہ کے آفیشلز اور اطالوی سفیر نے پرتپاک استقبال کیا
اردو زبان کا حال
انہوں نے بتایا کہ دہلی شہر میں اردو زبان کے مشاعروں، مباحثوں اور تقریری مقابلوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ ورنہ تو بھارت میں حال یہ ہے کہ 50 سال عمر سے زائد لوگ اردو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں جبکہ نئی نسل اردو کی کتابیں اور اخبار پڑھنے سے قاصر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 446 یوٹیلیٹی سٹورز بند
اردو زبان کے حق میں تحریک
انہوں نے بتایا کہ 1947ء کے بعد بھارت میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان مذہب نہیں بلکہ صرف اردو کی بنیاد پر بنا ہے۔ سب سے پہلے اترپردیش (UP) کی حکومت نے اردو مخالف روش اختیار کی اور بھارت کے سب سے بڑے صوبے میں تعلیمی اور انتظامی دفتری سطحوں پر اردو کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا۔ اس پر انجمن ترقی اردو نے ڈاکٹر ذاکر حسین کی سرکردگی میں اردو کو اس کا قانونی مقام دلوانے کے لیے بھارتی آئین کی دفعہ 347 کو متحرک کروانے پر اتفاق کرتے ہوئے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈانس ’’میرا دل یہ پکارے‘‘ سے مشہور ہونے والی لڑکی میٹرک میں 3 بار فیل نکلی۔
قرارداد کی پیشکش
اردو زبان کے حق میں اترپردیش کے 22 لاکھ ہندو مسلم مقامی باشندوں کے دستخطوں سے قرارداد تیار کی گئی۔ 15 فروری 1954ء کو ڈاکٹر ذاکر حسین بھارت کے صدر راجندر پرشاد سے ملے اور ان کی خدمت میں یہ قرارداد پیش کی۔ افسوس کہ 22 لاکھ لوگوں کے اس مطالبے کا حشر بھارت کی مرکزی حکومت نے بھی وہی کیا جو اْتّرپردیش کی حکومت نے کیا تھا۔ انجمن نے بھارت کے صدر سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جن بچوں کی مادری زبان اردو ہے اور سکول کی جس کلاس میں 10 سے زیادہ ایسے بچے موجود ہیں، وہاں ان بچوں کے لیے اردو میں تعلیم کا بندوبست کیا جائے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
کتاب کی اشاعت
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








