قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں شادی کے بعد لڑکی اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی، شوہر اور رشتہ کروانے والے نے خودکشی کر لی۔
چیئرمین کمیٹی کی تشویش
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور قوانین پر درست طریقے سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد بھی کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں سیاحوں کی موت نہیں بلکہ تحریک انصاف کے نظام کی موت ہوئی ہے، عطا اللہ تارڑ
ڈیجیٹل میڈیا بل 2025
جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں فحاشی اور بےحیائی کی روک تھام کے ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، اس موقع پر رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے بل کمیٹی میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں روشن مستقبل اور سہارا کارڈ کا اجرا، یتیموں، بیواؤں کو ماہانہ 5 ہزار روپے ملیں گے
وفاقی وزیر کی وضاحت
دوران اجلاس وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ اس حوالے سے پہلے سے اتھارٹی اور قانون موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ پہلے یہ شکایت تھی کہ ایکس پر پابندی تھی، عالمی کمپنیوں کے وفد پاکستان آتے ہیں اور لوکل قانون پر عملدرآمد پر بات ہوتی ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ اگر عالمی سوشل میڈیا کمپنیز کا دفتر نہیں تو ریگولیشنز پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
کمیٹی ممبروں کی رائے
کمیٹی ممبر علی قاسم گیلانی نے کہا کہ یوٹیوبر سعد الرحمان کی ویڈیو این سی سی آئی اے کے خلاف ہم سب نے دیکھی۔ بعد ازاں رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے فحاشی اور بےحیائی کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 واپس لے لیا۔








