قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کا رہنے والا عارف طفیل المعروف “میجر” کمال انسان تھا، جس بات کو ہاں کہہ دی کوئی نہ نہیں کرا سکتا تھا اور اگر نہ کر دی تو کوئی ہاں نہیں کرا سکتا تھا۔
چیئرمین کمیٹی کی تشویش
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور قوانین پر درست طریقے سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد بھی کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا شوہر گھر کے کام کرواتا ہے اور انسٹاگرام استعمال نہیں کرنے دیتا، خاتون نے شکایت کر دی۔
ڈیجیٹل میڈیا بل 2025
جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں فحاشی اور بےحیائی کی روک تھام کے ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، اس موقع پر رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے بل کمیٹی میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی شمولیت کے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں،ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام تقریب ، خصوصی رپورٹ جاری
وفاقی وزیر کی وضاحت
دوران اجلاس وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ اس حوالے سے پہلے سے اتھارٹی اور قانون موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ پہلے یہ شکایت تھی کہ ایکس پر پابندی تھی، عالمی کمپنیوں کے وفد پاکستان آتے ہیں اور لوکل قانون پر عملدرآمد پر بات ہوتی ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ اگر عالمی سوشل میڈیا کمپنیز کا دفتر نہیں تو ریگولیشنز پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
کمیٹی ممبروں کی رائے
کمیٹی ممبر علی قاسم گیلانی نے کہا کہ یوٹیوبر سعد الرحمان کی ویڈیو این سی سی آئی اے کے خلاف ہم سب نے دیکھی۔ بعد ازاں رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے فحاشی اور بےحیائی کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 واپس لے لیا۔








