حکومت مزید بجلی نہیں خریدے گی، مسابقتی مارکیٹ متعارف کرانے کا فیصلہ
وزیر توانائی کی ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملاقات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری کی ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشیا ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان کے توانائی شعبے کو درپیش چیلنجز اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نمود و نمائش اور فضول رسم و رواج سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑے گا،سادگی کو اپنانا ہو گا، آئیے انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر ملک و قوم کو بچانے کیلئے عہد کریں
بجلی کے خرید و فروخت کے نئے اقدامات
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق وفاقی وزیرِ توانائی نے اے ڈی بی کے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت نے مزید بجلی خریدنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بجلی کی خرید و فروخت کے لیے مسابقتی بجلی مارکیٹ متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ نظام میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو نے سوات واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کو بیان قلمبند کرا دیا
پاور سیکٹر میں چیلنجز
اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر کے قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی کے شعبے کو فنڈنگ اور ابتدائی اخراجات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، ایران تعلقات میں نئے باب کا اضافہ، ’’آئی ٹی آئی ٹرین‘‘ جلد بحال کرنے پر اتفاق ہو گیا
نجی سرمایہ کاری کا فروغ
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاور ٹرانسمیشن سیکٹر میں نجی سرمایہ کاری لانے کے لیے سرمایہ کاروں سے رابطے جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اضافی بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نظام سے نکال دیا گیا ہے تاکہ غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آج انڈر 18 ایشیا ہاکی کپ کا فائنل جاپان سے کھیلے گا
قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی
قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے حوالے سے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ گرڈ کے استحکام کے لیے مربوط مالی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سمارٹ میٹرز کی تنصیب نجی شعبے کی شمولیت سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت کی جائے گی۔
تعاون کی تجدید
ملاقات میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور مالی استحکام کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔








