قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان میں شدید تلخی کلامی
اجلاس میں تلخی
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخی کلامی ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتے ہیں، خواجہ آصف
بات چیت کا آغاز
’’ جیو نیوز ‘‘ کے مطابق پلوشہ خان نے کہاکہ تم ہو کون اس طرح کی بات کرنے والے جس پر عبد العلیم خان نے کہا کہ آپ عزت کریں گے تو ہم آپ کی عزت کریں گے، آپ لوگ ذات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عراق جانے والے زائرین کو مقررہ مدت سے زائد قیام کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی: محسن نقوی
تناؤ کی شدت
عبد العلیم خان نے پلوشہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’شٹ اپ‘‘ جس پر پلوشہ خان نے کہا ’’یو شٹ اپ‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے، اللہ اس میں برکت ڈالے: نواز شریف کی لندن میں نماز عید کے بعد میڈیا سے گفتگو
مباحثہ کی نوعیت
عبد العلیم خان نے کہا کہ سارے زمانے کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔
پلوشہ خان نے کمیٹی چیئر مین سے کہا کہ جو بدتمیزی وزیر نے کی ہے اس پر رولنگ دیں، کیا نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام لینا جرم ہے، میں نے سوال پوچھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورۂ قطر، فوجی تعاون کمیٹی کے اجلاس میں شرکت، اہم ملاقاتیں
چیئرمین کا مداخلت
ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چئیرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی۔
پرویز رشید کا کردار
اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاؤ کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔








