بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک کے سرکردہ رہنما عثمان ہادی کی میت سنگاپور سے ڈھاکہ پہنچا دی گئی۔
عثمان ہادی کی موت کا صدمہ
ڈھاکہ (ویب ڈیسک) سابق آمر وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے طویل دور حکومت کا دھڑن تختہ کرنے والی طلبا تحریک کے سرکردہ رہنما عثمان ہادی کی میت ڈھاکہ پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: میں کمانڈ فیصلوں کے لیے ChatGPT استعمال کرتا ہوں، امریکی جنرل کا انکشاف
علاج کے دوران انتقال
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہادی عثمان کی جان کو بچانے کے لیے ڈھاکا سے سنگاپور لے جایا گیا، لیکن وہ دوران علاج چل بسے۔ بنگلادیش کے پرچم میں لپٹی اُن کی میت آج ڈھاکا واپس لائی گئی جس کا استقبال لاکھوں طلبا نے ایئرپورٹ پر کیا۔ اس موقع پر عبوری حکومت کے وزرا بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطی کشیدگی، پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان
جنازہ کی تفصیلات
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے اعلان کیا کہ عثمان ہادی کی نماز جنازہ کل دوپہر 2 بجے بنگلادیشی پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازا میں ادا کی جائے گی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حکام نے اعلان کیا ہے کہ جنازے میں شرکت کرنے والے کوئی بیگ یا بھاری اشیا ساتھ نہ لائیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف ہماری جدوجہد شہداء کی قربانیوں سے تقویت پاتی ہے: صدر آصف زرداری
سیکیورٹی کے اقدامات
علاوہ ازیں پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے گرد و نواح میں ڈرون اڑانے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کے انتقال پر ہفتے کے روز ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور سرکاری تقریبات محدود رکھی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آئینی ترامیم کے پراسس میں شامل رہی لیکن ووٹ نہیں دیا،مصدق ملک
حملے کی تفصیلات
یاد رہے کہ شریف عثمان ہادی 12 دسمبر کو ڈھاکا کے علاقے پرانا پلٹن میں انتخابی مہم کے دوران فائرنگ کے ایک حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ حملہ آوروں کی گولی ان کے سر پر لگی تھی جس کے باعث وہ بے ہوش ہوگئے تھے۔ ابتدائی طور پر ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال اور پھر ایور کیئر اسپتال منتقل کیا گیا۔
علاج کا سلسلہ
حالت میں بہتری نہ آنے پر عثمان ہادی کو 15 دسمبر کو سنگاپور کے ایک جدید اور بڑے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز کی ماہر ٹیم نے معائنہ کیا۔ تاہم وہ جمعرات کی شب سنگاپور جنرل اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ جس کے بعد ڈھاکا میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے。








