کراچی میں گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا، پولیس حدود تنازع پر لاش کی گھنٹوں تک بےحرمتی۔
کراچی میں ہلاکت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلدیہ ٹاؤن قائم خانی نواب کالونی میں جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے کے وار سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ اس کی لاش کی کئی گھنٹوں تک بےحرمتی ہوتی رہی، جبکہ پولیس نے مقتول کے بھائی کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی رائے بجٹ سے متعلق بہتر نہیں، معاشی ترقی کیلئے کیا ضروری ہے۔۔۔؟ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں بتا دیا
پولیس کی کارروائی
ایکسپریس نیوز کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد سعیدآباد اور اتحاد ٹاؤن پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی۔ تاہم، دونوں تھانوں کی پولیس نے لاش کو ہاتھ نہیں لگایا اور حدود کے تنازعے میں ایک دوسرے سے لڑتی رہی۔ اس وجہ سے لاش کی کئی گھنٹوں تک بےحرمتی ہوتی رہی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال
لاش کی منتقلی
بعدازاں، ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن سب انسپکٹر اسد الہی نے اپنے تھانے کی حدود مانتے ہوئے لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کرائی۔ مقتول کی شناخت 25 سالہ خالد ولد اسلام کے نام سے کی گئی۔ ایس ایچ او کے مطابق شبہ ہے کہ مقتول کو اس کے بھائی وسیم نے قتل کیا ہے۔ عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا تھا کہ مقتول کا بھائی اسد واقعے کے فوری بعد جائے وقوعہ سے چلا گیا اور اس کے کپڑے خون آلود تھے۔ کچھ دیر بعد وہ کپڑے تبدیل کر کے واپس آگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بورڈ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائنز کی منظوری دے چکا، وفاقی حکومت کی منظوری سے تمام کرنسی نوٹس تبدیل کیے جائیں گے، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد
مقتول کا پس منظر
مقتول کا آبائی تعلق وزیرستان سے تھا اور وہ ایک بچے کا باپ تھا۔ مقتول اور اس کے بھائی وسیم کا لنڈے کے کپڑوں کا کام ہے۔ واقعے سے متعلق مقتول کے والدین کو وزیرستان میں اطلاع کر دی گئی ہے، جو کراچی آنے کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ مقتول کا بھائی مبینہ قاتل پولیس کی حراست میں ہے۔
اعتراف جرم
پولیس ذرائع کے مطابق وسیم نے اپنے بھائی کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ مقتول کی اہلیہ واقعے سے چند گھنٹوں قبل ہی اپنے بیٹے کو لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی، جبکہ وہ جاتے ہوئے گھر سے طلائی زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی اپنے ہمراہ لے گئی تھی۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔








