مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں۔ مذاکرات کے لیے ابہام حکومت نہیں، بلکہ دوسری طرف سے ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان" میں بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیش کش کرنے سے پہلے نواز شریف یا اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، 6 دنوں میں 2600 پولیس اہلکاروں کو ٹریفک چالان جاری
پی ٹی آئی کی قیادت کے بیانات
رانا ثناء نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت تو کہہ رہی ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن جب تک بانی پی ٹی آئی کی ڈائیلاگ کی پالیسی نہیں ہوگی تب تک جتنی چاہے میٹنگ ہوتی رہیں، بات نہیں بن سکتی۔ وہ کہتے ہیں مذاکرات کے لیے فلاں کو اجازت دے دی ہے، جب کہ فیصلہ تو بانی پی ٹی آئی نے کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیدھی بات کریں کہ آپ مذاکرات کے حق میں نہیں اور تشدد چاہتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا، علیمہ خان نے بھی یہی کہا تھا کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ان میں سے نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جدہ میں چوہدری اکرم گجر کی طرف سے پاکستانی کمیونٹی کا سحری اجتماع، قونصل جنرل کی خصوصی شرکت
مشیر وزیراعظم کا پیغام
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہیہ جام ہڑتال کا پیغام دیا ہے۔ کیا بانی پی ٹی آئی کی پچھلی ملاقات سے کوئی فائدہ ہوا ہے؟ پی ٹی آئی والے کیوں نہیں کہتے کہ وزیراعظم صاحب آپ کی پیش کش موصول ہوئی ہے، بتائیں کس ٹائم آپ کے پاس حاضر ہوں؟ وزیراعظم نے تو یہاں تک کہا ہے کہ میرے پاس نہیں آتے تو اسپیکر چیمبر میں آئیں، میں وہاں آجاتا ہوں۔
نئے مذاکرات کے امکانات
رانا ثناء نے کہا کہ وزیراعظم نے کوئی شرط نہیں رکھی۔ اگر یہ وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو آئیں ملاقات کریں۔ یہ اجازت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، تو وزیراعظم سے ملاقات میں یہی بات کر لیں۔ مشیر وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نے بجٹ منظوری کے وقت بھی مذاکرات کی بات کی اور اس وقت بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں۔








