سال 2025: پاکستانی میڈیا کنٹرول اور سنسرشپ کی زد میں رہا، سی پی این ای کی پریس فریڈم رپورٹ جاری
پریس فریڈم رپورٹ کی تشریح
لاہور (نیوز ڈیسک) کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کی پریس فریڈم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستانی میڈیا پر کنٹرول اور سنسر شپ کے باوجود صحافیوں کو گرفتاریوں، غداری کے مقدمات، جبری آف ایئر، بینک اکاؤنٹس کی بندش، ای سی ایل میں نام اور اشتہارات کی بندش جیسے مسائل کا سامنا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئرشو میں بھارتی طیارے کی تباہی پر شاہد آفریدی کا ردعمل بھی آگیا
آزاد صحافت پر اثرات
سالانہ میڈیا فریڈم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں چھپنے اور نشر ہونے والے مواد کی یکسانیت نے آزاد صحافت پر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان 2025 کی رپورٹر ودآؤٹ بارڈز کی عالمی میڈیا ریٹنگ میں 6 درجات کی تنزلی کے ساتھ 158ویں نمبر پر آچکا ہے جو 2024 میں 152ویں نمبر پر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کی بدانتظامی سے قومی خزانے کو 397ارب کے نقصان کا انکشاف
اخبارات کی حالت
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کے جبر، اشتہارات پر کنٹرول اور سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے بہت سے اخبارات بند اور بڑے میڈیا گروپس کے نیوز رومز خالی ہو چکے ہیں۔ اخبارات ملازمین کو فارغ کرنے پر مجبور ہیں۔ متعدد اینکر پرسنز کو ان کے پروگرامز سے آف ایئر کردیا گیا یا گھر جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انڈیا سے پہلے بنگلہ دیش میں سٹار لنک انٹرنیٹ سروس کا آغاز کر دیا گیا، ماہانہ فیس کتنی ہے؟
صحافیوں کی حفاظت
میڈیا اداروں اور صحافی برادری کی سلامتی، خود مختاری اور پیشہ ورانہ آزادی بری طرح خطرے میں پڑ چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران 6 صحافیوں کو مقدمات، گرفتاری یا سرکاری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 2 پریس کانفرنسیں روکی گئیں، 2 میڈیا دفاتر پر حملے ہوئے، 2 تشدد کے سنگین واقعات رپورٹ ہوئے، اور 2 بڑی ڈیجیٹل پابندیاں عائد ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کا پشاور اور کوئٹہ میں جلسہ کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد اور بلوچستان میں دباؤ
سی پی این ای کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مسلسل دباؤ، سنسر شپ اور انٹرنیٹ کی طویل بندش نے اطلاعات کی آزاد ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر معلومات تک رسائی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے ایس او ایس چلڈرن ویلجز انٹرنیشنل کے صدر ڈیریجے وردوفا کی ملاقات، ادارے کے فروغ اور بہتری کیلئے تعاون پر اتفاق
حکومت سے مطالبات
سی پی این ای نے حکومت سے صحافیوں کے خلاف تشدد، ہراسانی اور غیر قانونی کارروائیوں کا فوری خاتمہ کرنے اور صحافیوں اور میڈیا اداروں کو محفوظ اور آزادانہ ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آزادی صحافت کی جدوجہد
سی پی این ای نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آزادی صحافت کے تحفظ، صحافیوں کے حقوق کے دفاع اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ سی پی این ای نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2025ء کے دوران 5 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔








