پی ٹی اے نے درآمد کردہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی
پی ٹی اے کی موبائل فونز پر ٹیکس کم کرنے کی حمایت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی ہے، جس کے بعد 2026 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس اور یوکرین کے درمیان 307 قیدیوں کا تبادلہ
عوامی تشویش اور ٹیکس پالیسی
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس پالیسی کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد جدید سمارٹ فونز خریدنے سے محروم ہے، جب کہ اس صورتحال پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ا بو سمبل کے مجسموں اور مندروں کو 300 کلومیٹر دور لے جا کر نئی جگہ پر نصب کرنا تھا، یہ کام مالیاتی اور تکنیکی وجوہات کی بناء پر مصریوں کیلئے ناممکن تھا.
موبائل فونز کی بنیادی ضرورت
ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے حکومت کو سفارشات ارسال کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ موبائل فونز اب محض لگژری نہیں رہے بلکہ تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن روزگار کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ایسے میں درآمدی موبائل فونز پر بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز نے عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاج کرنا ہر شہری کا حق، لیکن کوئی ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی وطن واپسی پر اپنے استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ زیادہ ٹیکسوں کے باعث ایئرپورٹس پر فون رجسٹریشن ایک مہنگا مرحلہ بن چکا ہے، جس پر اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بارہا شکایات موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف دینے کا فیصلہ
ریلیف اور قانونی درآمد میں اضافہ
اتھارٹی کے مطابق اگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کی جائے تو نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ موبائل فونز کی قانونی درآمد میں بھی اضافہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی پانچ ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی عائد
پاکستان کی قیمتوں کا موازنہ
ماہرین کے مطابق بھاری ٹیکسوں کے باعث اس وقت پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے سمگلنگ اور غیر قانونی فونز کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا بلکہ حکومت کو طویل المدت بنیادوں پر ریونیو میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
مستقبل کی توقعات
پی ٹی اے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ یا 2026 کی پالیسی میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کرے گی۔ اگر سفارشات کو منظور کر لیا گیا تو آنے والے برس میں پاکستانی صارفین جدید موبائل فونز کم قیمت پر خریدنے کے قابل ہو سکیں گے، جس سے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔







