پی ٹی اے نے درآمد کردہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی
پی ٹی اے کی موبائل فونز پر ٹیکس کم کرنے کی حمایت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی ہے، جس کے بعد 2026 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئر لینڈ ٹیم کے کپتان پال سٹرلنگ انجری کے باعث ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر، سیم ٹاپنگ سکواڈ میں شامل
عوامی تشویش اور ٹیکس پالیسی
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس پالیسی کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد جدید سمارٹ فونز خریدنے سے محروم ہے، جب کہ اس صورتحال پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے تیسرے ٹی20 میں بنگلہ دیش کو 179 رنز کا ہدف دے دیا
موبائل فونز کی بنیادی ضرورت
ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے حکومت کو سفارشات ارسال کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ موبائل فونز اب محض لگژری نہیں رہے بلکہ تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن روزگار کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ایسے میں درآمدی موبائل فونز پر بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز نے عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں رمضان کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا
اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی وطن واپسی پر اپنے استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ زیادہ ٹیکسوں کے باعث ایئرپورٹس پر فون رجسٹریشن ایک مہنگا مرحلہ بن چکا ہے، جس پر اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بارہا شکایات موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز اور شہباز، دونوں بھائیوں کا اقتدار پاکستان میں طویل رات کی مانند رہا ہے نہ کوئی ریفارم نہ کوئی ویژن، بس چلے جا رہا ہے اسٹیبلشمنٹ کے سہارے، فواد چودھری
ریلیف اور قانونی درآمد میں اضافہ
اتھارٹی کے مطابق اگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کی جائے تو نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ موبائل فونز کی قانونی درآمد میں بھی اضافہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے ذریعے نوجوان نسل کو بااختیار بنایا جائے گا: مجتبیٰ شجاع الرحمان
پاکستان کی قیمتوں کا موازنہ
ماہرین کے مطابق بھاری ٹیکسوں کے باعث اس وقت پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے سمگلنگ اور غیر قانونی فونز کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا بلکہ حکومت کو طویل المدت بنیادوں پر ریونیو میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
مستقبل کی توقعات
پی ٹی اے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ یا 2026 کی پالیسی میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کرے گی۔ اگر سفارشات کو منظور کر لیا گیا تو آنے والے برس میں پاکستانی صارفین جدید موبائل فونز کم قیمت پر خریدنے کے قابل ہو سکیں گے، جس سے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔








