سلسلہ دنوں چلتا رہا، تانے بانے بنتا رہا، خوبصورتی کی وجہ سے ڈرتا تھا، کوئی ہمدم نہ تھا، اینٹ واپس لگا دیں، کل ایک محبت نامہ وصول کیجئے گا۔
مضمون کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 22
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملی، صرف چار سال کی بچی بیڈ کے نیچے سے زندہ بچ گئی۔
خاموشی اور اضطراب
یہ سلسلہ دِنوں چلتا رہا۔ اگلے قدم کے سلسلے میں تانے بانے بُنتا رہا۔ لیکن ایک ناکام جرنیل کی طرح ”Go Fire“ کہنے سے کتراتا رہا۔ کوئی ہمدم و ہمراز بھی نہ تھا۔ جس سے دِل کی بات کر کے ایک عدد تیر بہدف مشورہ کی فرمائش کرتا۔ لے دے کے ایک نُور احمد تھا۔ اُس سے اُس کی خوبصورتی کی وجہ سے ڈرتا تھا کہ اگر اُسے ساتھ ساتھ رکھّا تو کل کلاں یہ دن نہ دیکھنا پڑے کہ ”میں دیکھتا رہ جاؤں اور وہ چڑیا کو لے اُڑے“۔ لہٰذا خاموشی میں ہی عافیتّ جانی۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر دہشت گردوں کا حملہ، 7 افراد جاں بحق
دیواری راز
نیچے جس مکان سے سلام و پیام آتا تھا اُس گھر کی پچھلی دیوار نیچے ہمارے راستے سے لگتی تھی۔ ایک دن دیوار کے پاس سے گذرتے ہوئے ٹھک ٹھک کی آواز سنی۔ اب اُس زمانے کے رائج الوقت رواج کے مطابق ایسی بند دیواریں حسبِ ضرورت ”رفع حاجتِ خفیفہ“ کے لیے بے دھڑک استعمال کی جاتی تھیں۔ چنانچہ اس بہانے وہاں دیوار کی طرف بیٹھ کر ایک اینٹ کو روزانہ کریدنا شروع کردیا جو گارے کی چنائی سے لگائی گئی تھی۔ یہی کوئی 4 دن کے بعد اینٹ باہر نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔ اُدھر سے اُسی وقت ایک رُوح پرور پیغام ملا۔ ”شکریہ! اینٹ واپس لگا دیں کل ایک عدد محبتّ نامہ وصول کیجئے گا۔“
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مداخلت پر اسرائیل نے دو اہم ایرانی رہنماؤں کو ہدف کی فہرست سے ہٹا دیا، رائٹرز
محبت کا پیغام
اگلے دن مقررّہ وقت پر اینٹ کو نکالا تو لفافہ میں بند خوشبو میں بسا ”محبت نامہ“ میرے ہاتھ میں تھا۔ پڑھئے اور سر دُھنئے:
سلامِ شوق! اجنبی سوچوں کی اَتھاہ گہرائیوں میں غلطاں و پیچاں آپ کو کس نام سے پکاروں کہ جس سے تمہارے دِل کے تاروں سے میرے لیے ایک نغمہ پھُوٹے جو ہماری محبتّ کو امر کردے۔
رہنمائی کی مُنتظر: صبیحہ رُوحی
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنانے والا ہسپتال کا سی سی ٹی وی آپریٹر گرفتار
محبت کی زبان
کہتے ہی نہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر جاپان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ اب بتائیں یہ چاہتوں کا لاوا اُسی طرح ایک دل سے اِس سُرعت سے پھُوٹا کہ دوسرے دل کو َروند کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرگیا۔ میں ابھی محبت نامہ پڑھ کر سکتے کے عالم میں تھا کہ پیچھے سے آنے والے لوگوں کی آوازوں کے دباؤ نے ہوش میں آنے پر مجبور کردیا اور دوسرے ہی لمحے عالمِ تصوّرات سے نکل کر ”خالص انسانوں“ کی طرح آگے چل پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے سے بڑا حملہ بھی ایران میں رجیم چینج نہیں لاسکے گا، امریکہ کی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف
تاریخی پس منظر
یہ راز و نیاز کی ”الف لیلوی“ داستان اًُس وقت رقم کی جا رہی تھی جب 1947ء میں مملکتِ خداداد پاکستان کے معرض وجود میں آنے والے اعلانات کے بعد، پھیلتی ہوئی نفرتوں کے سائے میں پلتی اور بڑھتی ہوئی کشت و خون کی ہولی زور پکڑ گئی تو ہمارا سائیکل پر سکول جانا ایک پُر خطر عمل ٹھہرا لہٰذا ہمیں سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں داخل کروا دیا گیا۔ بورڈنگ ہاؤس کا سپرئنٹنڈنٹ ایک مسلمان ٹیچر ”نذیر احمد“ تھا۔(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








