ایران میں حالیہ مظاہروں سے متعلق ایرانی سفارتخانے کا وضاحتی اعلامیہ جاری
ایران میں حالیہ مظاہروں پر ایرانی سفارتخانے کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کو پرامن احتجاج کے حق کا مکمل احترام ہے، تاہم تشدد، تخریب کاری اور غیر ملکی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ ویسٹ انڈیز: قومی ٹیم کا فاتحانہ آغاز، کالی آندھی کو پہلے ٹی 20 میں شکست
احتجاج کی نوعیت
پریس ریلیز کے مطابق 28 دسمبر 2025 کو تہران بازار میں بعض تاجروں کی جانب سے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافے کے باعث معاشی خدشات پر مبنی احتجاجی اجتماعات ہوئے، جنہیں آئین کے تحت جائز مطالبات قرار دیا گیا۔ ایران نے واضح کیا کہ پرامن مظاہرین کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت ان مطالبات کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ماہ کے دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پونے 2 روپے بڑھی
تشدد اور فساد کی کوششیں
ایران کے مطابق بعض پرامن مظاہروں کو غیر ملکی مداخلت کے ذریعے ایک محدود گروہ نے تشدد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، مولوتوف کاک ٹیلز کے استعمال اور بعض مقامات پر اسلحے کے استعمال جیسے واقعات پیش آئے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اگلنے والی شاندار زرعی زمین کا انتخاب کیا گیا، خریدی اور کئی گنا زیادہ نرخ پر بیچ دی، اب تو قرضہ دینے والے ملک اور ادارے بھی ہنستے ہوںگے
عوامی سلامتی کا خطرہ
ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف عوامی جان و مال کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پرامن احتجاج کے دائرہ کار سے بھی باہر ہیں۔ حکومت نے زور دیا کہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے اسلحے اور دستی ساختہ دھماکا خیز مواد کے استعمال سے عوامی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: جشن عیدمیلادالنبی ﷺ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایرانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی ضبط اور تناسب کے اصولوں کے تحت کارروائی کی اور عوامی نظم و نسق بحال کرنے کی کوشش کی، جبکہ انسانی حقوق کے تقاضوں کو مدِنظر رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے پولی گرافک ٹیسٹ کی اجازت دینے کا تحریری فیصلہ جاری
غیر ملکی مداخلت کے بارے میں تشویش
ایرانی اعلامیے میں صیہونی حکومت اور بعض امریکی حکام کے بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا گیا۔ ایران نے الزام عائد کیا کہ ایسے بیانات تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے مترادف ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی اہم شخصیت مستعفی
امریکی پابندیوں کے اثرات
ایران نے یہ بھی کہا کہ یکطرفہ امریکی پابندیوں نے ایرانی عوام کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جن کے باعث مالی وسائل محدود، تجارت متاثر اور بنیادی اشیاء تک رسائی مشکل ہوئی، جس سے عام شہریوں پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
ایران کا عزم
آخر میں اسلامی جمہوریہ ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قومی خودمختاری، عوامی سلامتی اور پرامن احتجاج کے حق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، جبکہ غیر ملکی مداخلت اور تشدد کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔








