پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
ملاقات کا پس منظر
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امیگریشن کے عمل کو مزید سہل بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا: میاں بیوی کی خودکشی کا دلسوز واقعہ، موت سے قبل ریکارڈ کیاگیا ویڈیو بیان منظر عام پر
پری امیگریشن کلیئرنس معاہدہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس دوران پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باضابطہ معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری داخلہ پنجاب کا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کا دورہ، مختلف سیکشنز میں بچوں سے ملاقات
نظام کے فوائد
محسن نقوی کے مطابق پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان میں ہی مکمل کر لی جائے گی، جس کے بعد متحدہ عرب امارات پہنچنے پر انہیں امیگریشن کی طویل کارروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ اس نظام کے تحت مسافر ڈومیسٹک سفر کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
بہتری کے امکانات
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام سفر کو مزید سہل بنانے، وقت کی بچت اور مسافروں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان کا طالبہ کی درخواست پر فوری نوٹس، سکول میں بینڈ ماسٹر کے عہدے پر تعینات کر دیا
یو اے ای کا وفد
یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ کاری جاری رہے گی، جبکہ منصوبے کی کامیابی کے بعد اس نظام کو بتدریج دیگر شہروں تک توسیع دی جائے گی۔
وفد کی composition
وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔








