کوئی پوچھنے والا تھا اور نہ کوئی پرسان حال،قصہ مختصر تمام افسران کی لمبی کلاس ہوئی، موج کا وقت گزر گیا، آپ سے ہی کام لینا ہے، عوامی شکایات ختم کرنی ہیں

مصنف کی معلومات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 408

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی خواہش کا مطلب پھر سے نوکری کی درخواست دینا ہے: تجزیہ کار عثمان مجیب شامی

اجلاس کا آغاز

انہوں نے ایڈمنسٹریٹر سے کہا ”آپ کچھ بتائیں۔“ وہ بھی کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا۔ قصہ مختصر تمام افسران کی لمبی کلاس ہوئی۔ کمشنر نے سخت ریمارکس دیتے کہا؛ ”ایڈمنسٹریٹر صاحب آپ سمیت میں کسی بھی افسر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں۔ 15 دن کی مہلت دے رہا ہوں۔ 15 دن بعد دوبارہ آپ سے ملوں گا اور اگر مجھے بہتری دکھائی نہ دی تو مجھ سے کسی نرمی یا رعایت کی توقع کوئی بھی مت رکھے۔ ٹی ایم او صاحب آپ کو سب سے زیادہ ضرورت ہے خود کو بہتر کرنے اور چیزوں کو بہتر بنانے کے لئے۔ کوئی افسر یہ نہ سمجھے کہ وہ ٹرانسفر کرا کر کہیں اور چلا جائے گا۔ موج کا وقت گزر گیا۔ آپ سے ہی مجھے کام لینا ہے۔ عوامی شکایات ختم کرنی ہیں۔ آپ لوگوں نے اب کام اور صرف کام کرنا ہے۔ ٹی ایم اے کی کمرشل جائیداد کا کرایہ وہی ہونا چاہیے جو مارکیٹ ریٹ ہے۔ مجھے یہ بھی بتائیں کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو ذمہ دار کون ہے اور کیوں اس کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی؟ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ نے آ کر آپ کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ اُن کی محنت اور آپ کی کوشش سے ہمیں ٹی ایم ایز کو فعال بننا ہے۔“

یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر کا نئے سال پر غیر معمولی لباس سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا

میٹنگ کا اختتام

یہ میٹنگ ختم ہونے کے بعد ٹی ایم اے حاصل پور کی باری تھی۔ ان سے بریفنگ آدھ گھنٹہ ہی جاری رہی۔ تعارف کے بعد کمشنر نے اتنا ہی کہا؛ ”ٹی ایم او بہاول پور سے مل لیں اور جو ہدایات انہیں دی ہیں اسی کے مطابق 15 دن بعد ملاقات ہو گی۔ میں امید کرتا ہوں مجھے اس وقت مایوسی نہیں ہو گی۔“

یہ بھی پڑھیں: کس کے نام رہا رواں برس کا نوبل انعام برائے طب؟

ٹی ایم ایز کی معلومات

اس اجلاس کے خاتمے کے ساتھ ہی ڈویثرن بھر کی ٹی ایم ایز میں خبر پھیل گئی کہ ڈائریکٹر بلدیات نے کمشنر کے ساتھ مل کر ٹی ایم ایز اور سروسز کو بہتر بنانے کی ٹھان لی ہے اور کمشنر لوکل گورنمنٹ کے مسائل پر ڈائریکٹر کی بات کے علاوہ کسی اور کی بات نہیں سنتے۔ قصہ مختصر 3 ماہ میں ساری ٹی ایم ایز کی انسپکشن اور کمشنر کے ساتھ ایک ایک سیشن مکمل ہو گیا۔ اب فالو اپ شروع تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر چکر لگوا رہے تھے لیکن چیٹ جی پی ٹی نے کس طرح مرض کی تشخیص کر کے مریض کی زندگی بچا لی؟ جانیے

فالو اپ کی صورتحال

سمندر میں ہر چیز ڈوب جاتی ہے؛
فالو اپ میٹنگز جوں جوں ہونے لگیں، کمشنر سمیت میری بھی آنکھیں حیرت سے کھلتی چلی گئیں تھیں۔ مدت سے ان اداروں نے کمرشل جگہوں کے کرائے نہیں بڑھائے تھے۔ سرکاری دوکان کا کرایہ ہزار روپے تھے تو ویسی ہی پرائیوٹ دوکان کا کرایہ 10 ہزار روپے۔ کئی ٹی ایم ایز نے تو کئی سالوں سے نہ صرف کرایے نہیں بڑھائے بلکہ کرائے وصول ہی نہیں کئے تھے۔ کوئی بھی ٹی ایم اے واٹر چارجز وصول ہی نہیں کر رہی تھی۔ کوڑا اٹھانے کے لئے بھی کوئی فیس نہیں تھی۔ عجیب بات تھی کہ ہم سروسز مہیا کر رہے تھے مگر کوئی فیس وصول نہیں کرتے تھے۔ دنیا بھر میں یہ واحد مثال ہی تھی۔ آمدنی کے ذرائع بڑھانے کا کسی نے سوچا ہی نہیں تھا۔ بلڈنگ کنٹرول نہ ہونے کے برابر تھا، کمرشل بلڈنگز کی تعمیر نقشوں کی منظوری بغیر ہی شروع کر لی جاتی تھی۔ نہ کوئی پوچھنے والا تھا اور نہ کوئی پرسان حال۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...