امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے کہنے پر ایران پر حملہ موخر کیا، امریکی اخبار کا دعویٰ
نیتن یاہو کی درخواست
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے ساری کہانی مومن صدر کو سناتے کہا وزیر اعظم بھٹو نے صرف انسانی ہمدردی میں یہ حکم جاری کیا تھا، میری آنکھیں نم اور آواز جذبات سے بھری تھی
امریکی صدر کا بیان
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پہلگام ڈرامے کو بے نقاب کرنا چاہتا ہے، دنیا کو حقائق پتہ چلنے چاہئیں: محسن نقوی
حملے کے فیصلے میں تبدیلی
اس بیان کو اس بات کا اشارہ سمجھا گیا کہ صدر ٹرمپ ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ خلیجی ملکوں کی کوششوں کے باعث ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا، برطانوی اخبار کا دعویٰ۔ تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں بھی صدر ٹرمپ نے اسی نوعیت کا مبہم اشارہ دیا تھا حالانکہ اس وقت وہ ایران پر حملے کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان کو پیش نہ کرنے پر جیل حکام سے جواب طلب
فوجی آپشنز کا جائزہ
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فوجی کمانڈرز کی جانب سے پیش کردہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے اور حملے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی سکیورٹی ادارے ملک گیر احتجاج کے معاملے پر آگے کیا اقدام کرتے ہیں۔ اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
سفارتی کوششیں
دوسری جانب برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے 'اچھے عمل' کا مظاہرہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔








