تاجک فورسز کا افغانستان سے دراندازی کرنے والے 4 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
تاجک فورسز کی کارروائی
دوشنبے (مانیٹرنگ ڈیسک) تاجک فورسز نے افغانستان سے دراندازی کرنے والے 4 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر سیاستدان سبرامینئن سوامی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’جنسی سکینڈل‘‘ کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے
ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق تاجکستان کے حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے پڑوسی ملک افغانستان سے سرحد پار کرنے والے 4 افراد کو ہلاک کر دیا ہے، جنہیں سرکاری طور پر ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبررسانی ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی علاقے میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاجک سیکیورٹی اداروں کے مطابق جنوبی علاقے خاتلون میں یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مسلح افراد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: تکالیف سانجھی تھیں، کوئی بناوٹ نہ تھی،ہماری دوستی مثالی تھی اب ایسی دوستی خواب رہ گئی ہے،ماضی انسان کو زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے
سرحدی واقعات کی تعداد
تاجک حکام کے مطابق نومبر کے بعد سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر اس نوعیت کے کم از کم 5 واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے۔ غیر ملکی خبررسانی ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تاجک سرحدی محافظ، چینی شہری اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں تاجک حکومت ’’سمگلر‘‘ اور ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتی ہے۔
افغان طالبان حکومت سے اقدامات کی درخواست
نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکام نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس غیر مستحکم سرحدی خطے میں بدامنی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔








