تاجک فورسز کا افغانستان سے دراندازی کرنے والے 4 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
تاجک فورسز کی کارروائی
دوشنبے (مانیٹرنگ ڈیسک) تاجک فورسز نے افغانستان سے دراندازی کرنے والے 4 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام امن کا نام ہے، پاکستان پیس میکر ہے: شاہد آفریدی
ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق تاجکستان کے حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے پڑوسی ملک افغانستان سے سرحد پار کرنے والے 4 افراد کو ہلاک کر دیا ہے، جنہیں سرکاری طور پر ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبررسانی ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی علاقے میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاجک سیکیورٹی اداروں کے مطابق جنوبی علاقے خاتلون میں یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مسلح افراد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سرجانی ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرگئی، بچی جاں بحق، 7افراد زخمی
سرحدی واقعات کی تعداد
تاجک حکام کے مطابق نومبر کے بعد سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر اس نوعیت کے کم از کم 5 واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے۔ غیر ملکی خبررسانی ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تاجک سرحدی محافظ، چینی شہری اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں تاجک حکومت ’’سمگلر‘‘ اور ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتی ہے۔
افغان طالبان حکومت سے اقدامات کی درخواست
نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکام نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس غیر مستحکم سرحدی خطے میں بدامنی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔








