22 اگست سے اب تک ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جو رعایت اور التوا دیا گیا وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا، حنا پرویزبٹ
لاہور نیوز
لیگی رہنما اور کن اسمبلی حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ 22 اگست سے اب تک ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جو رعایت اور التوا دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر سیف نے بھارتی وزیر خارجہ کے بارے میں اپنے بیان کی وضاحت، سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد
قانونی نرمی یا انتقام؟
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے لکھا کہ پیکا کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف 'شاملِ تفتیش' کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام کی۔ بار بار غیر حاضری، وارنٹس کے باوجود فوری منسوخی اور مچلکوں کی بحالی ظاہر کرتی ہے کہ عدالت نے قانون نہیں بلکہ تحمل کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز کیس، اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
عدالت کے فیصلے کی حکمت عملی
وکیل کی عدم دستیابی، وکیل کی تبدیلی، اور عدالت کو چیلنج کرنے کے بہانے یہ سب قانونی حق نہیں بلکہ ٹرائل کو سبوتاژ کرنے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔
تین پاٹوں کا ذکر
22 اگست سے اب تک ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جو رعایت اور التوا دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔PECA کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف “شاملِ تفتیش” کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام کی۔بار بار غیر حاضری، وارنٹس…
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) January 20, 2026








