برطرف اور ڈیلی ویجر ملازمین سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کی سفارشات پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر کی تنخواہیں بڑھا کر ساڑھے 21لاکھ روپے ماہانہ کردی گئیں؟صحافی کے سوال پر وزیر خزانہ کا جواب بھی آ گیا
انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے اپیلوں کو میرٹ کے خلاف قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی اضافہ، ٹماٹر، گندم اور آٹے سمیت 13 اشیاء مہنگی
کمیٹی کی کارروائی کی قانونی حیثیت
عدالت نے قرار دیا کہ کمیٹی کی کارروائی ایڈوائزری کردار اور رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی حد تک محدود تھی۔ اس حد تک کمیٹی کی کارروائی کو آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کے مطابق قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم خصوصی کمیٹی کی اداروں کے سربراہان کو ملازمین کی بحالی و مستقلی کی ہدایات قانون کے مطابق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شبمن سے بریک اَپ کرنیوالی سارہ کو بالی ووڈ اداکار نے چھوڑ دیا
ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کا معاملہ
فیصلے کے مطابق ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کے تعین کی ہدایات بھی دائرہ اختیار اور قانون کے مطابق نہیں ہیں۔ ایسے اقدامات کو محض بے ضابطگی قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ اقدام آئینی قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردوں کے مکمل سدباب کے لیے حکومت پرعزم ہے: وزیر اعظم
انتظامیہ اور عدالت کے اختیارات میں مداخلت
عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی کمیٹی کے اقدامات انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ خصوصی کمیٹی کی جانب سے جاری ہدایات سول سرونٹس ایکٹ اور رولز کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ سنگل بینچ کا خصوصی کمیٹی کی ہدایات کو غیر قانونی قرار دینا بالکل درست تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس (ٹوئٹر) سروس میں تعطل پر پی ٹی اے کی وضاحت سامنے آگئی
متعلقہ اداروں کے اختیارات
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے بذات خود ملازمین کی سروس کی مستقلی، ریگولرائز یا بحالی کا اختیار رکھتے تھے۔ خصوصی کمیٹی کی ہدایات کی بنیاد پر استعمال کیے گئے اختیارات کو قانونی تحفظ حاصل نہیں، عدالت ان اداروں کو ایسے کیسز پر دوبارہ غور کے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں کرے گی۔ ایسا کرنا مکمل طور پر ان اداروں کے اپنے دائرہ اختیار اور صوابدید میں آتا ہے، اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔
خصوصی کمیٹی کی ہدایات
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لیے خصوصی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کے چیئرمین قادر مندوخیل تھے.








