پی ٹی آئی نے حکومت کا “بورڈ آف پیس” میں شمولیت کا فیصلہ مسترد کردیا

پی ٹی آئی کا حکومت کے فیصلے پر ردعمل

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومتِ پاکستان کے “بورڈ آف پیس” میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی اہمیت کے حامل فیصلے مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے بغیر نہیں کیے جا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: اب جو اللہ۔۔۔پہ چھوڑا ہے تو اچھا ہوگا

موجودہ پارلیمان کی حیثیت

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور وہ موجودہ پارلیمان کو جائز نہیں سمجھتی، کیونکہ 2024 کے انتخابات کے نتائج میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے ایک جعلی حکومت مسلط کی گئی۔ بیان کے مطابق جس جماعت کو اقتدار میں لایا گیا، وہ درحقیقت صرف 17 نشستیں جیت سکی تھی۔ اس کے باوجود، حکومت کو چاہیے تھا کہ ایسے اہم فیصلے کرنے سے قبل دستیاب پارلیمانی فورمز پر کھلے مباحثے کے ذریعے اس معاملے کو زیرِ غور لاتی۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی چوری روکنے سے ریلوے کو 8 ماہ کے دوران کتنی بچت ہوئی؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں

بین الاقوامی امن اقدام میں شمولیت

پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی بین الاقوامی امن اقدام میں پاکستان کی شمولیت اقوامِ متحدہ کے کثیرالجہتی نظام کی تقویت کا باعث ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے متوازی ڈھانچوں کی تشکیل کا ذریعہ جو عالمی نظام کو کمزور یا پیچیدہ کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی ہمیشہ اس اصول پر قائم رہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی خودمختاری کے تحفظ، آئینی اقدار کی پاسداری اور وسیع قومی و عوامی اتفاقِ رائے کی عکاس ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا؛ مادھوری ڈکشٹ کے شو میں تاخیر سے پہنچنے پر مداح آپے سے باہر، بڑا مطالبہ کردیا

فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی

پالیسی بیان میں فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف، بطور جماعت اور ہر پاکستانی شہری بطور انسان، فلسطینی عوام کی مرضی کے خلاف کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کرے گی۔ پی ٹی آئی نے فلسطینی عوام پر جاری مظالم پر شدید رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس میں القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہو۔ بیان کے مطابق یہ وہی اصولی مؤقف ہے جسے سابق وزیرِ اعظم عمران خان مسلسل پیش کرتے رہے، جو انصاف، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے نام پر کسی صورت حرف آنے کی اجازت نہیں دے سکتے، محسن نقوی

حکومت سے مطالبات

پی ٹی آئی نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” میں کسی بھی باضابطہ شرکت کو اس وقت تک واپس لیا جائے جب تک مکمل مشاورتی عمل مکمل نہ ہو۔ اس عمل میں پارلیمانی نظام کے تحت مکمل جانچ پڑتال اور بحث و مباحثہ، تمام بڑی سیاسی قیادت سے جامع مشاورت بالخصوص سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے مشاورت، اور عوامی اعتماد کے لیے ریفرنڈم کے ذریعے قوم سے رائے لینا شامل ہونا چاہیے۔

پاکستان کا عالمی کردار

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، اصول پسند اور امن دوست ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، جس کی عالمی سطح پر مصروفیات وقار اور قانونی حیثیت کی حامل ہوں، اقوامِ متحدہ کے منشور سے ہم آہنگ ہوں اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر استوار ہوں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...