ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے، بیرسٹر علی ظفر
پاکستان میں قرضوں کی صورتحال
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 25 ستمبر کو وردوان کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کروں گا، صدر ٹرمپ کا اعلان
حکومتی مالیاتی پالیسیاں
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر سپر ٹیکس لگا کر حکومت چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ پارلیمنٹ کے پاس نہ معیشت کا کوئی معاملہ ہے اور نہ ہی خارجہ امور کا۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اور انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر مسلسل چوتھے روز مہنگا
بین الاقوامی نظام کی تبدیلی
پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ دنیا میں ایک نیا نظام آرہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ غیر منتخب حکومت نے قرض لے کر عام شہری کا معاشی قتل کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک ریاض کی فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو تاریخی اعزاز پر مبارکباد
پارلیمنٹ کی اہمیت
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آپ کو پارلیمنٹ کی ضرورت پڑے گی، اور قوم کی حمایت آپ کو تب ملے گی جب بانی پی ٹی آئی آئیں گے۔ اس پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیا اور کہا کہ "اڈیالہ میں بیٹھا شخص حکومت میں آکر فیل ہو چکا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس نے کرسی کی خاطر آئی ایم ایف کا پروگرام سبوتاژ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی جانب سے پنجاب میں ریسٹورنٹس، بیکریوں اور شادی ہالز کے لیے اہم ہدایات
معاشی پالیسیوں پر تنقید
وفاقی وزیر نے کہا کہ "بیرسٹر علی ظفر کی پارٹی کی معاشی پالیسیاں ہم نے 2018 میں خوب دیکھیں۔" انہوں نے اسد عمر کی معیشتی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 12 ماہ سمجھ نہیں پائے کہ کیا کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ "پی ٹی آئی نے معاشی دہشت گردی کی، ان کی لگائی آگ ہم بجھارہے ہیں۔" اگر آپ معاشی استحکام میں حصہ نہیں ڈال سکتے تو اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔
اجلاس کی صورتحال
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی، اور اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ پر حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔ سینیٹ اجلاس میں کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔








